.

خلیج میں تیل بردار بحری جہازوں پر حملوں کے عالمی منڈی پر اثرات ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خلیج سے بیرون ممالک کی جانب تجارتی نقل و حرکت کو متاثر کرنے والے کسی بھی حملے کا نتیجہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں سامنے آئے گا۔ اس خیال کا اظہار تیل کے شعبے کے ماہر محمد الشطی نے کیا۔

الشطی کے مطابق "تیل کی مارکیٹ کو متاثر کرنے والا اور قیمتوں پر دباؤ ڈالنے والا مرکزی عامل تجارتی پہلو اور امریکا چین مذاکرات ہے۔ اس لیے کہ یہ امور آخر کار معیشت اور طلب کے حوالے سے اہم ترین ہیں۔ تاہم سیاسی عدم استحکام اور خلیج سے مختلف علاقوں کی جانب تجارتی نقل و حرکت بھی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے حوالے سے ایک اہم عامل شمار کیا جاتا ہے۔ جب کبھی ایسے حادثات رونما ہوں گے تو قیمتوں میں بھی اضافہ ہو گا"۔

الشطی نے بتایا کہ "دنیا میں تیل کی منڈی کو روزانہ خلیج کے علاقے سے نکلنے والے 1.8 کروڑ سے 2 کروڑ بیرل تیل کی روزانہ ضرورت ہے۔ لہذا ہمارے سوا دنیا میں کوئی بھی خطہ اس طلب کو پورا نہیں کر سکتا۔ قیمتوں کی پیش گوئی دشوار ہے کیوں کہ ہم اقتصادی اور سیاسی عامل کے بیچ کھڑے ہیں"۔

تیل کے شعبے کے ماہر کا کہنا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ تیل بردار جہازوں کا حادثہ اندیشوں اور تشویش کو جنم دے رہا ہے۔ اس طرح کی کارروائیوں سے یقینا قیمتوں میں اضافہ ہو گا۔

ادھر برطانیہ نے خلیجِ عُمان میں بحری جہازوں پر دھماکوں اور ان میں آگ لگنے سے متعلق رپورٹوں پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ برطانوی حکومت کی ترجمان کے مطابق ان کا ملک خطے میں مقامی حکام اور کمپنیوں کے ساتھ رابطے میں ہے۔