.

امریکا میں حزب اللہ کے غیر فعّال ذیلی گروپ کے منصوبوں کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نواز لبنانی ملیشیا حزب اللہ کی کارروائیوں کا دائرہ کار توسیع پا کر جنوبی امریکا سے شمالی امریکا تک پھیلتا جا رہا ہے۔ امریکا کی جانب سے یہ معاملہ گذشتہ ماہ زیر غور آیا جب نیویارک میں حزب اللہ کے لبنانی نژاد امریکی ایجنٹ علی کورانی کے خلاف عدالتی کارروائی عمل میں آئی۔

امریکی جریدے فارن پالیسی نے اس حوالے سے ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی۔ علی کورانی کو حزب اللہ سے روابط کے سبب 2017 میں حراست میں لیا گیا۔ گذشتہ ماہ فوجداری عدالت نے ایف بی آئی اور دیگر خفیہ ایجنسیوں کی جاسوسی اور امریکی فوج کے اسلحے خانے کا قریب سے جائزہ لینے کے الزامات میں کورانی کو قصور وار ٹھہرایا۔ کورانی کے ذریعے امریکی حکام کو حزب اللہ کے اُن منصوبوں کا انکشاف ہوا جن کا مقصد ضرورت پڑنے پر امریکا میں دہشت گرد کارروائیوں پر عمل درامد کرنا تھا۔

تحقیقات کے دوران کورانی نے اعتراف کیا کہ وہ حزب اللہ کے ایک غیر فعّال گروپ کا حصہ ہے۔ اس کی سرگرمیاں امریکا تک محدود نہیں بلکہ کینیڈا اور یہاں تک کہ چین تک پھیلی ہوئی ہیں۔

کورانی حزب اللہ کی ذیلی تنظیم "الجہاد الاسلامی" کا رکن ہے۔ حزب اللہ کا ایک سینئر کمانڈر عماد مغنیہ بھی اسی تنظیم کا حصہ تھا۔ تنظیم نے کورانی کو 2008 میں عماد مغنیہ کی ہلاکت سے ایک ماہ قبل بھرتی کیا تھا۔

کورانی حزب اللہ کے عالمی نیٹ ورک کی توسیع کے منصوبے کا حصہ ہے۔ اس منصوبے پر مغنیہ کے قتل سے پہلے ہی عمل شروع ہو چکا تھا۔