.

عالمی برادری توانائی کی حمل ونقل کے تحفظ کے لیے مل کر کام کرے: اماراتی وزیر خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کے وزیر برائے خارجہ امور اور بین الاقوامی تعاون شیخ عبداللہ بن زاید نے کہا ہے کہ عالمی برادری کو جہاز رانی اور توانائی کی حمل ونقل کے لیے مل جل کر کام کرنا چاہیے۔

انھوں نے بلغاریہ کے دارالحکومت صوفیہ میں ہفتے کے روز ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ’’ہمارا ایک پیچیدہ خطہ ہے ،اس کے پاس تیل اور گیس کی شکل میں بہت سے وسائل ہیں ۔ہم ان وسائل کی محفوظ حمل ونقل چاہتے ہیں اور عالمی معیشت کے استحکام کو یقینی بنانا چاہتے ہیں۔ہمیں اپنے عوام اور اپنی معیشتوں کو بھی محفوظ بنانا چاہیے‘‘۔

انھوں نے متحدہ عرب امارات کے پانیوں کے نزدیک گذشتہ ماہ چار تیل بردار بحری جہازوں پر حملوں کے حوالے سے کہا: ’’ابھی تک ہمیں ایسے کافی شواہد نہیں ملے ہیں جن کی بنیاد پر ہم کسی خاص ریاست کی جانب انگلی اٹھا سکیں‘‘۔

شیخ عبداللہ نے کہا کہ جس علاقے میں تیل بردار جہازوں پر حملوں کے واقعات پیش آئے ہیں ، یہ اقتصادی ،جغرافیائی اور سیاسی لحاظ سے بڑی اہمیت کا حامل ہے اور تیل بردار جہازوں پر حملوں سے تیل کی عالمی سطح پر سپلائی میں رکاوٹ پیدا ہوسکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پسماندگی اور انتہا پسندانہ موقف کے حامل کردار مشرقِ اوسط اور شمالی افریقا کو عدم استحکام سے دوچار کرنا چاہتے ہیں اور اس خطے کی ترقی کے اہداف میں حائل ہونا چاہتے ہیں۔

اماراتی وزیر خارجہ نے دنیا کو باور کرایا کہ ’’ خطے میں حقیقی سلامتی اور استحکام کو تمام علاقائی کرداروں کے مل جل کر کام کرنے سے ہی حاصل کیا جاسکے گا۔ہمارا خطہ دنیا میں توانائی کا مرکزی سپلائیر ہے ۔ہمارا تحفظ اور سلامتی سب کی خوش حالی اور ا ستحکام کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے‘‘۔

گذشتہ جمعرات کو دو ٹینکروں مارشل آئس لینڈ کے پرچم بردار فرنٹ آلٹیر اور پاناما کے پرچم بردار کوکوکا کورجیئس کو خلیج عمان میں آبنائے ہُرمز کے نزدیک بین الاقوامی پانیوں میں تخریبی حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ان میں اول الذکر جہاز ایک آبی بم ( تارپیڈو) سے ٹکرایا تھا ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دوسرے عہدے داروں نے ایران کو اس حملے کا مورد الزام ٹھہرایا تھا۔

گذشتہ ماہ بھی اسی علاقے میں امارت فجیرہ کے نزدیک خلیج عمان میں چار تیل بردار بحری جہازوں پر بارودی سرنگوں سے حملہ کیا گیا تھا۔ان میں دو بحری جہاز سعودی عرب کے تھے۔ایک ناروے اور ایک متحدہ عرب امارات کا تھا۔ان حملوں کا بھی ایران پر الزام عاید کیا گیا تھا۔