.

عرب سیٹ نے قطری بی این اسپورٹس کے خلاف فرانسیسی عدالت کے فیصلے کی تصدیق کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عرب سیٹلائٹ کمیونی کیشنز آرگنائزیشن ( عرب سیٹ ) نے فرانس کی اعلیٰ عدالت کے قطر کے میڈیا گروپ بی این اسپورٹس کے خلاف مقدمہ جیت لیا ہے۔

تنظیم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ’’عدالت کے فیصلے میں بی این میڈیا گروپ کے عرب سیٹ کے خلاف عاید کردہ تمام الزامات کو مسترد کردیا گیا ہے اور اس میں عرب سیٹ کے قطری میڈیا گروپ کے الزامات اور توہین آمیز کوششوں کے خلاف ٹھوس موقف کی توثیق کی گئی ہے‘‘۔

بیان کے مطابق’’ فرانسیسی عدلیہ نے اپنے حکم کے ذریعے بی این کی قانونی عذر داری اور الزامات کو مسترد کردیا ہے اور کسی شک وشبہ سے بالاتر ہو کر ہماری تنظیم کے پہلے روز سے مؤقف کو درست ثابت کردیا ہے۔بی این اسپورٹس نے اس مؤقف کے بارے میں شکوک پیدا کرنے کی بہت کوشش کی تھی۔اس نے میڈیا پر مذموم مہم چلائی تھی اور گم راہ کن اور جعلی دعووں کو پھیلانے کی انتھک کوشش کی تھی‘‘۔

فرانسیسی عدالت نے 13 جون کو یہ فیصلہ سنایا تھا اور اس سے ایک ماہ قبل ہی ایک اورفرانسیسی عدالت نے بی این میڈیا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ( سی ای او) یوسف العبیدلی کے خلاف بدعنوانی کے الزام میں فرد جرم عاید کی تھی۔ان کے خلاف قطر میں 2019ء میں ہونے والی ٹریک ورلڈ چیمپئن شپ کی بولی کے عمل میں بدعنوانی کی تحقیقات کے بعد یہ فرد جرم عاید کی گئی تھی۔

بعض قطری اور دوسر ے میڈیا ذرائع نے ہفتے کے روز بی این اسپورٹس کے جاری کردہ ایک پریس ریلیز کو رپورٹ کیا ہے۔اس میں یہ کہا گیا ہے کہ فرانسیسی عدالت نے بی این کی ٹیکنیکل رپورٹس کی توثیق کردی ہے۔اس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ فیصلے میں عرب سیٹ کو بی آؤٹ کیو کی تقسیم کا ذمے دار ثابت کیاگیا ہے۔

عرب سیٹ نے اس کے ردعمل میں کہا ہے کہ وہ اپنے حق میں فیصلے کا خیرمقدم کرتی ہے لیکن وہ بی این،اس کے ایگزیکٹوز اور عرب سیٹ سے متعلق حکم کے بارے میں جھوٹی خبریں پھیلانے میں ملوث تمام فریقوں کے خلاف قانونی کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

اس نے مزید کہاہے کہ ’’فرانسیسی عدالت کے بی این کو ماخوذ کرنے ،اس کو غیر معمولی جرمانے کی سزا دینےاور مقدمے کی لاگت ادا کرنے کا حکم انصاف کی عکاسی کرتا ہے اور بی این میڈیا اسپورٹس گروپ کے تمام جھوٹے الزامات کی بھی تردید کرتا ہے۔اس قطری گروپ نے اپنی فنی ناکامیوں اور میڈیا سرقہ بازی کی پردہ پوشی کے لیے عرب سیٹ کے خلاف مذموم مہم چلائی تھی۔عرب سیٹ کو امید ہے کہ بین الاقوامی فیڈریشنیں بی این میڈیا تنظیم کی گم راہ کن مہموں کے جھانسے میں نہیں آئیں گی کیونکہ اس کی شہرت تو پہلے ہی فرانس اور سوئٹزرلینڈ میں بدعنوانی اور رشوت کے الزامات پر فوجداری تحقیقات کی وجہ سے تار تار ہوچکی ہے‘‘۔