.

معزول سوڈانی صدر عمر حسن البشیر کے خلاف اپیل کی مدت کے بعد مقدمہ چلے گا:پراسیکیوٹر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان کے قائم مقام پراسیکیوٹر جنرل نے کہا ہے کہ سابق صدر عمر البشیر کے خلاف اپیل کی ایک ہفتے کی مدت ختم ہونے کے بعد بدعنوانی کا مقدمہ سماعت کے لیے عدالت میں بھیج دیا جائے گا۔

عمر حسن البشیر کے خلاف بدعنوانی کا یہ مقدمہ چلانے کا اعلان ان کی معزولی کے دوماہ کے بعد کیا گیا ہے۔انھیں سوڈانی فوج نے 11 اپریل کو عوامی احتجاجی تحریک کے بعد معزول کردیا تھا اور اقتدار فوجی کونسل نے سنبھال لیا تھا۔

پراسیکیوٹر الولید سیّد احمد نے ہفتے کے روز صحافیوں سے گفتگو کہا ہے کہ ’’عمر البشیر کے خلاف آیندہ ہفتے سے عدالت میں کرپشن اور غیر ملکی کرنسی رکھنے کے الزامات میں مقدمہ چلایا جائے گا۔ان کے خلاف ان الزامات کی تحقیقات مکمل ہوچکی ہے۔‘‘

سوڈان کی حکمراں فوجی کونسل کے سربراہ عبدالفتاح البرہان نے گذشتہ ماہ کہا تھا کہ عمرالبشیر کی رہائش گاہ سے 11 کروڑ 30 لاکھ ڈالر مالیت کی تین کرنسیوں میں نقدی برآمد ہوئی تھی۔ پولیس ، فوج اور سکیورٹی ایجنٹوں کی ایک ٹیم کو معزول صدر کی قیام گاہ سے 70 لاکھ یورو (78 لاکھ ڈالر) ساڑھے تین لاکھ ڈالر اور پانچ ارب سوڈانی پاؤنڈز برآمد ہوئے تھے۔

قائم مقام پراسیکیوٹر نے کہا کہ سابق انتظامیہ کے خلاف 41 فوجداری مقدمات شروع کیے گئے ہیں اور وہ اس وقت زیر تفتیش ہیں۔انھوں نے دوسرے ملزموں کے نام تو نہیں بتائے لیکن ان کے خلاف الزامات کا زمینوں پر قبضے سے تعلق ہے۔

واضح رہے کہ سوڈان میں معزول صدر عمر البشیر کے زمانے میں بدعنوانیاں عروج پر تھیں ۔ٹرانسپرینسی انٹرنیشنل کی 2018ء کی ایک رپورٹ کے مطابق سوڈان کا بدعنوانیوں کی درجہ بندی میں 180 ممالک میں 172 واں نمبر تھا۔

گذشتہ ماہ الولید سیّد احمد نے عمر البشیر کے خلاف منی لانڈرنگ اور ’’مالیاتی دہشت گردی‘‘ کے الزامات کی تحقیقات کا حکم دیا تھا۔ ان کے خلاف مظاہرین کی ہلاکتوں کے الزامات کی بھی تحقیقات کی گئی تھی اور ان کے خلاف فرد جرم عاید کی گئی تھی۔ان کی سکیورٹی فورسز نے دسمبر سے اپریل تک جاری رہنے والی عوامی احتجاجی تحریک کے دوران میں مظاہروں پر قابو پانے کے لیے تشدد کا استعمال کیا تھا جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔