.

جرمنی اور برطانیہ کا ایران کو افزودہ یورینیم کے ذخائر میں اضافے کے منصوبے پر انتباہ

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ نے ایران کی دھمکیوں کو’’ سیاسی ہتھکنڈا ‘‘ قرار دے کر مسترد کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمنی اور برطانیہ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ وہ جولائی 2015ء میں طے شدہ جوہری سمجھوتے کی خلاف ورزی سے گریز کرے اور افزودہ یورینیم کے ذخائر میں اضافہ نہ کرے جبکہ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ فیڈریکا مغرینی نے ایران کی دھمکیوں کو’’ سیاسی ہتھکنڈا ‘‘ قرار دے کر مسترد کردیا ہے۔

ایران نے سوموار کے روز دھمکی دی ہے کہ وہ آیندہ دس روز کے بعد افزودہ یورینیم کی مقدار کو تین سو کلو گرام سے بڑھا دے گا لیکن ساتھ ہی اس نے کہا ہے اگر جوہری سمجھوتے کے دوسرے فریق اپنے وعدوں کو پورا کرتے ہیں تو وہ اپنے اس ارادے سے باز آجائے گا اور تین سو کلو گرام کی حد پار نہیں کرے گا۔

ایران جوہری سمجھوتے کے فریق پانچ ممالک جرمنی ، فرانس ، برطانیہ ، چین اور روس پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ اس کو امریکا کی پابندیوں سے بچانے کے لیے عملی اقدامات کریں اور بالخصوص تیل کی برآمدات کو جاری رکھنے کے لیے اس کی مدد کریں ۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مئی 2018ء میں ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان طے شدہ تاریخی جوہری سمجھوتے سے دستبردار ہونے کا ا علان کردیا تھا اور نومبر میں ایران کے خلاف دوبارہ سخت اقتصادی پابندیاں عاید کردی تھیں۔ان میں خاص طور پر اس کی تیل کی تجارت کو ہدف بنایا گیا ہے جس کی وجہ سے اس کی تیل کی برآمدات نصف سے بھی کم رہ گئی ہیں۔

جرمن وزیر خارجہ ہائیکو ماس نے ایران کے دس روزہ نئے الٹی میٹم کو مسترد کردیا ہے اور اس پر زور دیا ہے کہ وہ جوہری سمجھوتے کے تقاضوں کو پورا کرے۔انھوں نے لکسمبرگ میں یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ’’ ہم یقیناً ( ایران کی جانب سے) یک طرفہ طورپر سمجھوتے کی ذمے داریوں سے دستبرداری کو قبول نہیں کریں گے‘‘۔

برطانوی حکومت کے ترجمان نے بھی ان کی اس بات کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’سمجھوتے پر دست خط کرنے والے یورپی یونین کے تین رکن ممالک مسلسل یہ بات واضح کررہے ہیں کہ ڈیل کے تقاضوں کی پاسداری میں کوئی کم نہیں ہوسکتی‘‘۔

ترجمان نے کہا کہ ’’ایران اس وقت جوہری سمجھوتے کے تقاضوں کو پورا کرنے کا پابند ہے۔ہم آیندہ اقدامات کے لیے اپنے یورپی شراکت دار دونوں ممالک ( فرانس اور جرمنی ) سے رابطے میں ہیں‘‘۔

دریں اثنا یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ فیڈریکا مغرینی نے واضح کیا ہے کہ ان کی تنظیم محض ایران کی غوغا آرائی کی بنیاد پر کوئی اقدام نہیں کرے گی بلکہ ا قوام متحدہ کے تحت جوہری توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی ( آئی اے ای اے) کی جائزہ رپورٹس کا انتظار کرے گی۔

انھوں نے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ جوہری سمجھوتے پر عمل درآمد سے متعلق ہمارا جائزہ کبھی ایران کے بیانات پر مبنی نہیں رہا ہے اور نہ ایسا ہوگا بلکہ ہمارا جائزہ آئی اے ای اے کی زمینی حقائق کے مطابق فنی رپورٹس پر مبنی ہوتا ہے‘‘۔

قبل ازیں ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا کہ یورپ کے پاس تہران سے طے شدہ جوہری سمجھوتے کو بچانے کے لیے بہت تھوڑا وقت رہ گیا ہے۔انھوں نے تہران میں متعیّن نئے فرانسیسی سفیر سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ ایک بہت اہم موقع ہے ۔ فرانس اب بھی سمجھوتے کےدوسرے دست خط کنندہ ممالک کے ساتھ مل کر کام کر سکتا ہے اور وہ اس بہت مختصر وقت میں ڈیل کو بچانے کے لیے تاریخی کردار ادا کرسکتا ہے‘‘۔