.

نائجیریا میں تین خودکش بم دھماکے ، 30 افراد ہلاک ،40 زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افریقی ملک نائجیریا کے شمال مشرقی علاقے میں تین خودکش بم دھماکوں میں تیس افراد ہلاک اور چالیس زخمی ہوگئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ریاست بورنو کے دارالحکومت میڈوگری سے اڑتیس کلومیٹر دور واقع قصبے کون ڈوگا میں تین حملہ آور بمباروں نے اتوار کی شب مقامی وقت کے مطابق نو بجے کے قریب ایک ہال کے باہر خود کو دھماکوں سے اڑا دیا تھا۔اس وقت ہال لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا اور وہ ٹیلی ویژن پر ایک فٹ بال میچ دیکھ رہے تھے۔

اسٹیٹ ایمر جنسی مینجمنٹ ایجنسی ( سیما) کے سربراہ عثمان کشالا نے خود کش حملے میں تیس افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔قبل ازیں حکام نے اس حملے میں ہلاکتوں کی تعداد سترہ بتائی تھی۔ زیادہ تر ہلاکتیں ہال کے باہر ہوئی ہیں ۔ہال کے مالک سمیت نو افراد موقع پر ہی دم توڑ گئے تھے اور اڑتالیس زخمی ہوگئے تھے۔ان میں اکیس بعد میں زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ گئے ہیں۔

حکام نے بتایا ہے کہ ہال کے مالک نے ایک خودکش بمبار کو اندر داخل ہونے سے روک دیا تھا جس کے بعد ان کے درمیان سخت تلخ کلامی ہوئی تھی اور پھر خودکش بمبار نے وہیں ہال کے باہر دھماکا کر دیا تھا۔دوسرے دو حملہ آور بمبار نزدیک واقع ایک ٹی اسٹال پر لوگوں میں گھل مل گئے تھے اور انھوں نے ان کے درمیان اپنی خود کش جیکٹیں دھماکوں سے اڑا دیں۔

عثمان کشالا نے صحافیوں کو بتایا کہ ایمرجنسی سروس کے اہلکار بروقت جائے وقوعہ پر نہیں پہنچ سکے تھے جس کی وجہ سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔اس کے علاوہ اس قصبے میں واقع اسپتال میں اتنی زیادہ تعداد میں زخمیوں کو سنبھالنے اور ان کی ابتدائی طبی امداد کا کوئی خاطر خواہ بندوبست نہیں تھا۔نیز میڈوگری سے طبی عملہ کو بروقت بھیجنے میں سکیورٹی کی کلئیرینس نہیں مل سکی تھی۔

فوری طور پر کسی گروپ نے ان خودکش بم دھماکوں کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے لیکن اس حملے کا طریق کارسخت گیر جنگجو گروپ بوکو حرام جیسا ہے۔اس نے نائجیریا کے شمال مشرقی علاقے میں اپنی ساختہ سخت گیر ریاست کے قیام کے لیے گذشتہ ایک عشرے سے مسلح مہم برپاکررکھی ہے اورا س کے جنگجو عام شہریوں اور سکیورٹی فورسز ، عوامی مقامات پر حملے کرتے رہتے ہیں۔

قبل ازیں نائجیریا میں اپریل میں فوجی چھاؤنی والے شہر مون گونو میں خودکش بم دھماکا ہوا تھا اور دو بمبار خواتین نے شہر کے باہر خود کو دھماکوں سے اڑا دیا تھا جس کے نتیجے میں ایک فوجی اور ایک چوکیدار ہلاک ہوگیا تھا۔

نائجیریا میں بوکو حرام کی جنگی کارروائیوں کے نتیجے میں 27 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور قریباً بیس لاکھ بے گھر ہوچکے ہیں۔اس سخت گیر جنگجو گروپ کے تشدد کا یہ سلسلہ پڑوسی ممالک نیجر ، چڈ اور کیمرون تک پھیل چکا ہے جس کے بعد ان ممالک نے ان مزاحمت کاروں سے نمٹنے کے لیے علاقائی فوجی اتحاد تشکیل دیا تھا۔