.

وائٹ ہاؤس کا اسرائیلی حکام کو بحرین میں فلسطین کانفرنس میں مدعو نہ کرنے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وائٹ ہاؤس نے اسرائیلی حکومت کے عہدے داروں کو بحرین کے دارالحکومت منامہ میں آیندہ ہفتے فلسطین کے اقتصادی منصوبے کی معاونت کے لیے ہونے والی مجوزہ کانفرنس میں مدعو نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کے ایک سینیر عہدہ دار کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ کانفرنس کی غیر سیاسی حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے کیا گیا ہے۔

اس عہدہ دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ہے کہ منامہ میں 25 اور 26 جون کو ہونے والی اس کانفرنس میں فلسطین کے کاروباری نمایندوں کی شرکت متوقع ہے لیکن فلسطینی حکومت کے عہدے دار اس میں شرکت نہیں کریں گے۔واضح رہے کہ فلسطینی حکومت نے اس کانفرنس کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ اس سے امریکا نے اس سلسلے میں کوئی مشاورت نہیں کی ہے۔

فلسطینی وزیراعظم محمد اشتیہ کے زیر قیادت حکومت نے وائٹ ہاؤس کے سینیر مشیر جیرڈ کوشنر کے مجوزہ امن اقدام کے بائیکاٹ کا بھی اعلان کیا تھا۔چناں چہ ٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیلی حکومت کے عہدے داروں کو بھی اس کانفرنس میں شرکت کی دعوت نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔اس کانفرنس میں عرب حکومتوں اور یورپی ممالک کے مندوبین کی شرکت متوقع ہے۔

منامہ میں ہونے والی اس کانفرنس میں جیرڈ کوشنر اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرقِ اوسط کے لیے خصوصی ایلچی جیسن گرین بلاٹ امریکی صدر کے طویل عرصے سے التوا کا شکار مجوزہ اسرائیل ، فلسطینی امن منصوبے کے اقتصادی حصے کا اعلان کریں گے۔

صدر ٹرمپ اس منصوبے کو ’’ صدی کی ڈیل‘‘ قراردیتے ہیں ۔اس کا مقصد غربِ اردن اور غزہ پٹی میں عرب ڈونر ممالک کی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔اس کے بعد اس دیرینہ تنازع کے حل کے لیے منصوبے کے سیاسی حصے کو منظرعام پر لایا جائے گا۔