.

یمن: ذمار صوبے میں حوثیوں کے خلاف نئی عوامی مزاحمتی تحریک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے وسطی صوبے ذمار کے قبائل کے سیکڑوں افراد صنعاء پہنچ رہے ہیں۔ ان کی آمد کا مقصد دارالحکومت میں السبعین اسکوائر پر دھرنا دینا ہے۔ یہ دھرنا مذکورہ قبائلیوں کے خلاف حوثی ملیشیا کی کارستانیوں کی مذمت میں ہے۔ اس امر کا انکشاف یمن کے ذرائع ابلاغ کے توسط سے سامنے آنے والی حالیہ رپورٹس میں کیا گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق قبائلی جھتے شیخ محمد حسین الضبیانی کی رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ جہران کے علاقے میں شیخ المشائخ کی حیثیت رکھنے والے الضبیانی کو حوثی ملیشیا نے چار ماہ قبل اغوا کر لیا تھا۔ مذکورہ شخصیت کو نامعلوم مقام پر لے جایا گیا اور ابھی تک ان کے بارے میں کوئی معلومات سامنے نہیں آئی ہے۔

حوثی ملیشیا نے الضبیانی کو حوثیوں کے سرغنے کے بھائی عبدالخالق الحوثی عُرف ابو یونس کی ذاتی ہدایت پر اغوا کیا۔ ابو یونس صنعاء کے حقیقی گورنر کے طور پر جانا جاتا ہے۔

ذرائع کے مطابق صنعاء کے وسط میں السبعین اسکوائر پر دھرنے کے شرکاء نے حوثی ملیشیا کے خلاف تحریک کا دائرہ کار بڑھانے کی دھمکی دی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ملیشیا نے ان کے مطالبات کو نظر انداز کیا تو وہ راستے بند کر دیں گے اور مخلتف محاذوں پر حوثیوں کی صفوں میں شریک ہو کر لڑنے والے اپنے قبائلی افراد کو واپس بلا لیں گے۔ دھرنے کے شرکاء نے باور کرایا کہ ذمار صوبے کے افراد کے خلاف حوثی ملیشیا کی کارستانیاں حد سے تجاوز کر گئی ہیں۔

رپورٹوں کے مطابق ذمار صوبے میں حوثی ملیشیا کی جیلوں کے اندر 3000 سے زیادہ مغوی اور روپوش افراد موجود ہیں۔ ان میں 1668 افراد کا تعلق ذمار صوبے سے ہے۔ اس طرح مغوی اور جبری طور پر روپوش کیے جانے والے افراد کی تعداد کے لحاظ سے ذمار صوبہ دوسرے نمبر پر آ گیا ہے۔

مقامی تنظیموں کے مطابق ذمار صوبے میں حوثیوں کی خفیہ جیلوں اور قید خانوں کی تعداد 65 کے قریب ہے۔ متعدد گھروں کو بھی خفیہ اور عارضی حراستی مراکز میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ ان کے علاوہ صوبے کے ضلعوں میں درجنوں جیلیں اور سرکاری عمارتیں ہیں جن کو باغیوں نے مغوی حریفوں کی حراست اور ان پر تشدد کی جگہ بنا دیا ہے۔