.

چین نے مشرق وسطی میں امریکی عسکری پھیلاؤ سے خبردار کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چین نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ کشیدگی کے بیچ امریکا کی جانب سے خطے میں مزید 1000 فوجیوں کے تعینات کرنے کا اعلان پوری دنیا میں شرانگیزی کا دروزہ کھول سکتا ہے۔

چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے منگل کے روز تہران پر بھی زور دیا کہ وہ 2015 میں طے پانے والے جوہری معاہدے سے "اتنی آسانی سے" دست بردار نہ ہو۔ تہران یہ اعلان کر چکا ہے کہ اس کے افزودہ یورینیم کے ذخائر 27 جون سے جوہری معاہدے میں مقرر کی گئی حدود سے تجاوز کر جائیں گے۔

اس سے قبل پیر کے روز جاری ایک بیان کے مطابق امریکی نائب وزیر دفاع پیٹرک شاناہن سے یہ بات منسوب کی گئی تھی کہ سینٹرل کمان کی درخواست پرعمل درآمد کرتے ہوئے مزید ایک ہزار فوجیوں کو مشرق وسطیٰ میں تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تا کہ خطے میں فضائی، بری اور بحری خطرات سے نمٹنے میں مدد لی جا سکے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران کی طرف سے کیے جانے والے حالیہ حملوں کے شواہد بتاتے ہیں کہ تہران معاندانہ روش پرعمل پیرا ہے۔ خطے میں امریکا اور اس کے مفادات کو ایرانی فوج اور اس کے حمایت یافتہ عناصر سے خطرات لاحق ہیں۔

جنرل پیٹرک کا کہنا تھا کہ ان کا ملک ایران کے ساتھ جنگ نہیں چاہتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارا پہلا مقصد خطے میں امریکی مفادات اور وہاں پر کام کرنے والے امریکی شہریوں کی جان ومال کا تحفظ ہے۔ ہم خطے میں اپنے مفادات اور شہریوں کے تحفظ کے پیش نظر انٹیلی جنس اداروں کی مصدقہ معلومات کی روشنی میں سیکورٹی پلان تیار کرتے ہیں۔

قبل ازیں دو امریکی عہدے داروں نے 'رائیٹرز' سے بات کرتے ہوئے انکشاف کیا تھا کہ امریکا مشرق وسطیٰ میں مزید فوج بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے تا کہ خطے میں ایران کی طرف سے درپیش خطرات کا تدارک کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ ہفتے بحر عُمَان میں تیل بردار جہازوں پرحملوں کے بعد خطے میں امریکی فوج کی اضافی نفری کی ضرورت بڑھ گئی ہے۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر فوج بھیجنے کی خبر دینے والے عہدے داروں نے یہ نہیں بتایا کہ اضافی نفری کب بھیجی جائے گی؟