.

امریکی دباو سے حزب اللہ اور حماس کے لیے ایرانی فنڈنگ کم ہوگئی: برائن ہُک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے لیے امریکا کے خصوصی ایلچی برائن ہُک نے کہا ہے کہ ان کے ملک کی طرف سے ایران پرمعاشی دباو کے اثرات واضح طورپر دکھائی دینے لگے ہیں۔ امریکی دبائو کے باعث ایران کی سمندر پار دہشت گردی کے لیے فنڈنگ متاثر ہوئی جس کےنتیجے میں لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ اور فلسطین کی حماس کو ایران سے فنڈز ملنا کم ہوگئے ہیں۔

العربیہ کے مطابق برائن ہک نےامریکی سینٹ کمیٹی کو ایران پرعاید کردہ اقتصادی پابندیوں کے اثرات پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اسلحہ اور فوجی طاقت کے استعمال کےبغیر معاشی ناکہ بندی کے ذریعے ایران کو مذاکرات کی میز پرلانے اور ایک نیا جوہری معاہدہ کرنے کی راہ ہموار ہورہی ہے۔

انہوں‌ نے کہا کہ اگرچہ امریکی پابندیوں‌ کے باوجود ایران دہشت گرد ملیشیائوں کی مالی معاونت، بیلسٹک میزائلوں کی تیاری اور خطے میں مداخلت جاری رکھے ہوئے ہے مگر ایران کی صلاحیت پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

برائن ہُک نے کہا کہ ایران کی مداخلت سے یمنی عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوا۔ ایران نے اسد رجیم کی مدد کے لیے تمام حربے استعمال کیے۔ خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے ایران نے حزب اللہ کی معالی اور فوجی مدد کی۔

ایران کے لیے امریکی ایلچی کا کہنا تھا کہ ایران کی حزب اللہ اور حماس کے لیے فنڈنگ متاثر ہوئی ہے اور اسے بیرونی فنڈنگ کی پالیسی کو آگے بڑھانے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکی پابندیوں‌کے باعث چند مای کے دوران ایرانی معیشت کو چھ فی صد نقصان پہنچا ہے۔ ایران اب شام میں لڑنے والے حزب اللہ کے جنگجوئوں کو مالی مدد فراہم نہیں‌کررہا ہے اور شام میں تہران کے دفاعی منصوبوں میں ایک تہائی کم کردیے گئےہیں۔