.

ایرانی میزائل کا نشانہ بننے والا امریکی ڈرون بین الاقوامی فضائی حدود میں تھا: ڈونلڈ ٹرمپ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایرانی حملے کا نشانہ بننے والاامریکی ڈرون بین الاقوامی فضائی حدود میں تھا، ایرانی علاقے میں نہیں تھا ۔اس کے ہمارے پاس دستاویزی ثبوت موجود ہیں۔

ایرانی حکومت نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اپنی فضائی حدود میں امریکا کے بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے کو مار گرایا ہے۔امریکی صدر جمعرات کے روز وائٹ ہاؤس میں کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو سے ملاقات سے قبل میڈیا سے گفتگو کررہے تھے۔ان سے جب صحافیوں نے پوچھا کہ اب امریکا کا کیا ردعمل ہوگا تو وہ یوں گویا ہوئے:’’ آپ یہ ردعمل دیکھیں گے۔‘‘

صدرٹرمپ نے ایران کے اقدام کو ایک بڑی غلطی قرار دیا ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ بات چیت کا امکان موجود ہے۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ ایران نے شاید غلطی سے امریکا کا ڈرون مار گرایا ہے۔

امریکی صدر نے اس معاملے پر کشیدگی کوبڑھاوا دینے کے بجائے صورت حال کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی ہے اور کہا کہ ’’میں یہ نہیں جان سکاہوں کہ یہ واقعہ ارادی طور پر ہوا ہے‘‘۔ان کا کہنا تھا کہ ’’میں یہ محسوس کرتا ہوں ،یہ ایک غلطی ہے۔یہ جس کسی نے غلطی کی ہے،اس کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا‘‘۔

اس موقع پر جسٹن ٹروڈو نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انھیں ایران کے ساتھ کشیدگی میں اضافے پر تشویش لاحق ہے۔

قبل ازیں ایرانی فورسز نے امریکا کے ایک فوجی ڈرون کو آبنائے ہُرمز کے اوپر بین الاقوامی فضائی حدود میں مار گرانے کا دعویٰ کیا تھا۔اس کو زمین سے فضا میں مار کرنےوالے میزائل سے نشانہ بنایا گیا تھا۔

دریں اثناء اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو بھی اس معاملے میں کود پڑے ہیں اور انھوں نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف امریکا کی حمایت کریں ۔

انھوں نے ایک ویڈیو بیان میں کہا:’’ گذشتہ 24 گھنٹے کے دوران میں ایران نے امریکا اور ہم سب کے خلاف جارحیت میں اضافہ کردیا ہے۔میں تمام امن پسند ممالک سے اپنا یہ مطالبہ دُہراتا ہوں کہ وہ ایران کی جارحیت کو روکنے کے لیے امریکا کی کوششوں کا ساتھ دیں۔اسرائیل اس معاملے میں امریکا کے ساتھ کھڑا ہے۔‘‘