.

ایران کے ساتھ جنگ نہیں چاہتے مگرہرطرح کے حالات کے لیے تیار ہیں: امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزارت دفاع 'پینٹاگان' نے جمعرات کے روز ایک بیان میں کہا ہےکہ مشرق وسطیٰ میں مزید ایک ہزار فوجیوں‌ کی تعیناتی میں پیٹریاٹ میزائل بریگیڈ،حملہ آور ڈرون طیارے اور جاسوس ڈرون طیارے بھی شامل ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ‌ کے مطابق 'پینٹا گان' کے ترجمان نے ایک بیان میں‌ کہا کہ ان کا ملک ایران کے ساتھ جنگ نہیں چاہتا مگر ہرطرح کے حالات سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔

خیال رہے کہ کل بدھ کے روز امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو نے ایک بیان میں کہا تھا کہ مشرق وسطیٰ‌میں مزید 1000 فوجیوں‌کی تعیناتی کا مقصد'دفاعی' ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی ایران کے ساتھ جنگ نہیں چھیڑنا چاہتے مگر امریکی انتظامیہ ایران کی خطے میں اپنی معاندانہ اور جارحارنہ سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے تہران پر دبائو جاری رکھے گا۔

مائیک پومپیو نے ان خیالات کا اظہار فلوریڈا میں قائم امریکی سینٹرل کمانڈ کے ہیڈ کواٹر کے دورےکے موقعے پر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف جنگ کرنےیا نہ کرنے کےمعاملے میں امریکا کی مختلف وزارتوں کے درمیان مکمل ہم آہنگی ہے۔ ہم جنگ نہیں چاہتے مگر ہر طرح کے حالات کے لیے تیار ہیں۔ اگر ایران نے جارحیت کی تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگرایران نے امریکیوں کا تعاقب، امریکی مفادات کو نقصان پہنچانے اور اپنے جوہری اسلحہ کے پروگرام پر کام جاری رکھا تو امریکا کو حرکت میں آنا پڑے گا۔

خیال رہے کہ سوموار کے روز امریکی وزارت دفاع نے مشرق وسطیٰ‌میں مزید ایک ہزار فوجی تعینات کرنے کا اعلان کیا تھا۔ امریکی حکام کا کہناہے کہ مزید فوجیوں‌ کی تعیناتی کا مقصد ایران کی طرف سے خطے اور امریکی مفادات کو لاحق خطرات کا تدارک کرنا ہے۔