.

سعودی عرب ایران کے ساتھ کوئی جنگ نہیں چاہتا: عادل الجبیر

سعودی عرب ایران کے اثرات کو کم کرنے کے لیے عراق کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط بنا رہا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ عادل الجبیر نے کہا ہے کہ ان کا ملک ایرا ن کے ساتھ کوئی جنگ نہیں چاہتا ہے۔البتہ عالمی برادری ایران کے ’’جارحانہ کردار‘‘ کو روک لگانے کے لیے پُرعزم ہے۔

انھوں نے جمعرات کو لندن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ’’ اگر ایران آبنائے ہُرمز کو بند کرتا ہے تو اس کو بہت ہی سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا‘‘۔ان کے خیال میں ’’ ایران کے جارحانہ کردار کی وجہ سے ہی صورت حال بہت سنگین ہوچکی ہے‘‘۔

عادل الجبیر نے ایران کو مخاطب کرکے کہا:’’ جب آپ بین الاقوامی جہاز رانی میں رخنہ ڈالیں گے تو اس کے توانائی کی سپلائی پر اثرات مرتب ہوں گے ،اس سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر بھی اثرات ہوں گے، تیل کی بڑی ہوئی قیمتیں عالمی معیشت کو بھی متاثر کریں گی اور یوں اس سے دنیا میں کم وبیش ہر شخص ہی متاثر ہوگا‘‘۔

انھوں نے ایران کے پڑوسی ملک عراق پر اثرات کے حوالے سے کہا کہ سعودی عرب انھیں کم سے کم کرنے کے لیے کام کررہا ہے اور بغداد کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط بنا رہا ہے۔