.

متحدہ عرب امارات:غیرملکی خاندانوں کے زیر ِکفالت بچوں کے لیے نئے ویزا قواعد کا خیر مقدم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات میں مقیم غیر ملکی خاندانوں نے 18 سال سے زیادہ عمر کے اپنے زیر کفالت بچوں کو کسی زرِ ضمانت کے بغیر اقامتی ویزوں کے اجرا کے لیے نئے قواعد وضوابط کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ انھیں اس سے بہت فائدہ پہنچے گا ۔

یو اے ای کے محکمہ برائے شہریت اور شناخت نے بدھ کو امارات میں مقیم والدین کے 18 سال سے زیادہ عمر کے بچوں کو اقامتی ویزوں کے اجرا کے لیے نئے قواعد کا ا علان کیا تھا۔اس کے تحت ثانوی اسکول یا کسی جامعہ میں زیر تعلیم طلبہ کو مسلسل دو سال کے لیے ویزے جاری کیے جاسکیں گے۔

پہلے ایسے ویزوں کے اجرا کے لیے پانچ ہزار درہم کی رقم زر ضمانت کے طور پر حکومت کے پاس جمع کرانا پڑتی تھی لیکن اب اس کی ضرورت نہیں رہے گی ۔اب غیرملکی مقیم افراد اپنی زیر ِکفالت غیر شادی شدہ بچّیوں اور 18 سال سے کم عمر لڑکوں کے لیے ویزے کے حصول کی غرض سے عمومی زمرے کے تحت درخواست دائر کرسکتے ہیں۔

یو اے ای میں مقیم بھارتی اور پاکستانی خاندانوں نے اماراتی حکومت کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ایک بھارتی خاندان نے بتایا ہے کہ انھیں پہلے سے جمع کرائی گئی درخواستوں پر آج جمعرات سے ویزے ملنا شروع ہوگئے ہیں اور انھیں کسی قسم کے مسئلے یا دشواری کا بھی سامنا نہیں کرنا پڑا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اب ان کے نوجوان لڑکے اور بچیاں اعلیٰ تعلیم کے حصول تک یو اے ای ہی میں ان کے ساتھ مقیم رہ سکیں گے۔

نئے قواعد کے تحت یو اے ای میں مقیم والدین اپنے زیر کفالت بچوں کے لیے ایک سال کا ویزا حاصل کر سکیں گے اور پھر اس میں مزید ایک سال کی توسیع کرائی جاسکے گی۔ اس اقدام سے بچوں کی سیکنڈر ی اسکول کی تعلیم کی تکمیل اور کسی یونیورسٹی میں داخلے کی تاریخ کے دن سے ہی فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ یو اے ای یا اس سے باہر کسی ملک سے سیکنڈری اسکول کے امتحان میں کامیابی کے سرٹی فکیٹ کے حامل بچے اس ویزے کے حصول کے لیے درخواست دائر کرسکتے ہیں۔

مقیم افراد کے علاوہ دنیا بھر سے آنے والے سیاحوں کے 18 سال سے کم عمر بچوں کو فری وزٹ ویزے جاری کیے جائیں گے۔ اس کا مقصد زیادہ سے زیادہ سیاحوں کو متحدہ عرب امارات کی سیاحت کی ترغیب دینا اور آمادہ کرنا ہے۔یو اے ای کا سیاحتی موسم 15 جولائی سے شروع ہو کر 15 ستمبر تک جاری رہتا ہے۔

واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات کی کابینہ نے گذشتہ سال سرمایہ کاروں ، پیشہ ور حضرات ( ڈاکٹروں اور انجنیئروں ) اور ان کے خاندانوں کے علاوہ تعلیمی کارکردگی میں اے گریڈ کے حامل طلبہ کو دس سال کی مدت کے اقامتی ویزے جاری کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔