.

چین : افغان طالبان کے ساتھ امن بات چیت کا انعقاد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چین کی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ بیجنگ نے کچھ عرصہ قبل افغان تحریک طالبان کے ایک وفد کی میزبانی کی تھی۔ یہ پیش رفت افغانستان میں امن اور مصالحت کو مضبوط بنانے کی کوششوں کے سلسلے میں سامنے آئی۔

طالبان کے نمائندے کئی ماہ سے امریکی سفارت کاروں کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں۔

اس بات چیت کا محور طالبان تحریک کی جانب سے امریکی اور دیگر غیر ملکی افواج کے انخلا کا مطالبہ ہے۔ اس کے مقابل طالبان نے ضمانت دی ہے کہ افغانستان کو شدت پسندوں کی جانب سے حملوں کے اڈے کے طور پر استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔

طالبان مذاکرات کاروں نے کچھ عرصہ قبل ماسکو میں ہونے والی بات چیت کے دوران افغانستان کے سینئر سیاست دانوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں سے ملاقات کی تھی۔ افغانوں کے درمیان بات چیت کے نام سے ہونے والی اس پیش رفت کا مقصد ملک کے مستقبل کو زیر بحث لانا ہے۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لو کینگ نے جمعرات کے روز اپنی یومیہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ قطر میں طالبان تحریک کے نمائندے عبدالغنی برادر اور ان کے بعض ساتھیوں نے کچھ عرصہ قبل چین کا دورہ کیا۔ تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ دورہ کب کیا گیا۔

ترجمان کے مطابق چین نے آخری چند برسوں میں افغانستان کی صورت حال اور پیش رفت پر خصوصی توجہ دی ہے اور بیجنگ نے افغانستان میں امن اور مصالحت کے عمل میں ہمیشہ مثبت کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ چین اس بات کو سپورٹ کرتا ہے کہ افغان اپنے مسائل کو بات چیت کے ذریعے خود حل کریں۔ ترجمان نے مزید کہا کہ دونوں فریق یہ سمجھتے ہیں کہ یہ متبادل بات چیت فائدے مند تھی۔ لو کینگ کا کہنا تھا کہ فریقین افغانستان میں سیاسی حل تک پہنچنے اور دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے رابطہ اور تعاون جاری رکھنے پر متفق ہو گئے۔

چین کے انتہائی مغربی صوبے شین ژیانگ کی مختصر سرحد افغانستان کے ساتھ مشترک ہے۔

چین کو طویل عرصے سے اس امر پر تشویش ہے جس کو وہ شدت پسند جماعتوں اور شین ژیانگ میں سرگرم انتہا پسندوں کے درمیان روابط کا نام دیتا ہے۔ یہ صوبہ ویگور آبادی کی سکونت کا مقام ہے جس کی اکثر آبادی مسلمان ہے اور وہ ترک زبان بولتے ہیں۔

چین جو پاکستان کا قریبی حلیف ہے ،،، کابل کے ساتھ اپنے اقتصادی اور سیاسی تعلقات مضبوط بنانے کے لیے کام کر رہا ہے۔ اسی طرح وہ دونوں پڑوسی ممالک کو قریب لانے کی کوشش میں اپنا نفوذ استعمال کر رہا ہے۔ ان پڑوسیوں کے بیچ تعلقات کو کشیدگی نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔

چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے دسمبر 2018 میں کابل کا دورہ کیا تھا۔