.

امریکا کے لیے جاسوسی کےالزام میں ایرانی فضائی ماہر کو پھانسی دے دی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں سپاہ پاسداران انقلاب کے فضائی فورس کے ماہر جمال حاجی زوارہ کو امریکا کے لیے جاسوسی کے الزام میں سزائے موت دے دی گئی ہے۔

انسانی حقوق کے حلقوں نے مصلوب عہدہ دار کے ایران میں مقیم اہل خانہ کے حوالے سے بتایا کہ زوارہ پر ’دشمن کے لیے جاسوسی‘ کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا اور ایک انقلاب عدالت کی طرف سے اُنہیں سزائے موت دی گئی تھی جس پر گذشتہ روز تہران کے کسی نامعلوم مقام پرعمل درآمد کردیا گیا۔

جمال حاجی زوارہ کو 5 ستمبر2017ء کو گرفتار کیا گیا تھا۔ وہ پاسداران انقلاب کے زیر انتظام فضائی فورس کے ماہر کے طور پر اپنی اہلیہ لیلیٰ تاجک سمیت کام کر رہے تھے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں‌ کا کہنا ہے کہ جمال حاجی زوراۃ کو حراست میں لینے کے بعد وحشیانہ جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اس کے ناخن نکال دیے گئے اور اسے بجلی کے جھٹکے بھی لگائے تھے۔

ان کی اہلیہ لیلیٰ کو اپنے شوہر کو جاسوسی میں معاونت کی پاداش میں 15 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی اور وہ اس وقت تہران میں کاچوئی جیل میں قید ہیں۔

ایران کی انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ زوارہ سے تشدد کے ذریعے جاسوسی کا اعتراف کرایا گیا۔

خیال رہے کہ ایران میں امریکا کے حوالے سے انتہائی سخت طرز عمل اختیار کیا جاتا ہے اور امریکا کی معمولی معاونت کو بھی جاسوسی قرار دے کر ملزمان کو تختہ دار پر لٹکا دیا جاتا ہے۔