.

ایران کے ساتھ جنگ ہوئی تو بڑے پیمانے پر'قتل عام' ہو گا: ٹرمپ

امریکا، موجودہ حالات میں ایران کے ساتھ جنگ سے حتی المقدور بچنا چاہتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کا ملک حتیٰ الامکان ایران کے ساتھ جنگ چھیڑنے سے بچنا چاہتا ہے۔ اگر جنگ ناگزیر ہو گئی تو اس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر قتل عام ہو گا۔

امریکی ٹی وی چینل' این بی سی' کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ بات چیت کے لیے کوئی پیشگی شرائط نہیں۔

صدر ٹرمپ نے ایران کو مخاطب کر کے کہا ’’کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار نہیں حاصل کر سکتا۔ اگر آپ بات چیت کرنے پر آمادہ ہیں تو یہ اچھا ہے، بات چیت سے طویل عرصے سے تباہی سے دوچار آپ کی معیشت بہتر ہو سکتی ہے۔‘‘

ایک سوال کے جواب میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر کچھ گڑ بڑ ہوتی ہے تو ہمارے لڑاکا طیارے فورا فضاء میں ہوں‌ گے۔ اس کے بعد معاملات وہاں تک پہنچ سکتے ہیں جہاں سے واپسی کا کوئی امکان نہیں۔

انہوں‌ نے کہا کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا منصوبہ تیار ہے مگر اسے میری منظوری اور اجازت کی ضرورت ہے۔ ہمارے ہاں کوئی گرین لائن نہیں۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز امریکی اخبار'نیویارک ٹائمز' نے اپنی رپورٹ میں‌ کہا تھا کہ امریکا نے ایران پر بمباری کا منصوبہ تیار کرلیا تھا مگر صدر ٹرمپ نے اس پرعمل درآمد سے 10 منٹ قبل فیصلہ تبدیل کر دیا۔

امریکی صدر نے اپنی ٹویٹس میں کہا تھا کہ ہمیں ایران کے خلاف کوئی بھی کارروائی کرنے میں‌ کوئی عجلت نہیں۔ ایران کبھی بھی ایٹمی طاقت نہیں‌ بن سکتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکی فوج نے اپنی صلاحیت کو بحال کیا ہے اور اس وقت امریکی فوج دنیا کی سب سے بہتر فوج ہے۔ ہماری فوج ہی ایرانی نظام کے لیے واضح‌ اعلان ہے۔