.

برطانوی وزارتِ عظمی کے مضبوط امیدوار کے گھر پر جھگڑے کی تفصیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ کے سابق وزیر خارجہ بورس جانسن جمعہ کو اپنے گھر پر پیش آنے والے واقعے کے سبب تنازع کا شکار ہو گئے ہیں۔ تُرک نژاد جانسن کنزرویٹو پارٹی کی صدارت اور برطانیہ کی وزارت عظمی کے لیے مضبوط امیدوار ہیں۔ بورس جانسن (55 سالہ) لندن کے جنوبی علاقے Camberwell میں اپنی 31 سالہ دوست کیری سائمنڈز کے ساتھ ایک اپارٹمنٹ میں رہتے ہیں۔

تفصیل کے مطابق جمعہ کو علی الصبح مذکورہ اپارٹمنٹ کے اندر چیخ پکار اور ہنگامے کا شور بلند ہوا۔ اس دوران کسی خاتون کے چلّانے اور چیزوں اور برتنوں کی توڑ پھوڑ کی آوازیں بھی سنائی دی گئیں۔ اس پر پڑوسیوں نے پولیس کو مداخلت کے لیے اطلاع کر دی۔

یہ اپارٹمنٹ کیری سائمنڈز کا ہے اور بورس جانسن دسمبر 2018 سے یہاں اپنی دوست کیری کے ساتھ مقیم ہیں۔ تاہم علاقے کے پڑوسیوں کو صرف ایک ہفتہ قبل معلوم ہوا کہ جانسن اس اپارٹمنٹ میں رہ رہے ہیں۔ وہ اپنی دوست کیری کے سبب اپنی بیگم میرینا ویلر سے طلاق کے منتظر ہیں۔ میرینا اور جانسن کی شادی 25 برس پہلے ہوئی تھی اور ان کے چار بچے ہیں۔

کیری سائمنڈز حکمراں جماعت کنزرویٹو پارٹی کی سرکاری ترجمان رہ چکی ہیں۔

پڑوسی کی اطلاع پر پولیس بورس جانسن کے گھر پر پہنچ گئی۔ پولیس نے سابق وزیر خارجہ اور ان کی دوست سے گفتگو میں اس بات کی تصدیق کی کہ کوئی ایسی خلاف ورزی کا ارتکاب نہیں کیا گیا جو مداخلت کی متقاضی ہو۔

پڑوسیوں کا کہنا تھا کہ انھوں نے اپارٹمنٹ میں ایک عورت کے چلانے کی آواز سنی جو کہہ رہی تھی کہ "مجھ سے دُور ہو جاؤ۔ میرے گھر سے نکل جاؤ"۔ ساتھ ہی کسی سامان کے گرنے کی بھی آواز آئی۔ پڑوسی نے اپارٹمنٹ کا دروازہ بجایا مگر دونوں میں سے کسی نے دروازہ نہیں کھولا۔ اس کے بعد پڑوسی تشویش کے باعث پولیس کو اطلاع دینے پر مجبور ہو گیا۔

برطانوی اخبار گارڈین کو ملنے والی ریکارڈنگ میں بورس جانسن نے اپارٹمنٹ چھوڑنے سے انکار کر دیا۔ انھوں نے کہا کہ "میرے لیپ ٹاپ سے دُور ہو جاؤ"۔ اس کے بعد کسی چیز کے گرنے کی زوردار آواز سنائی دی گویا کہ جونسن نے اپنا لیپ ٹاپ یا کوئی شیشے کی چیز زمین پر دے ماری ہو۔ اس لیے کہ کیری کے چلانے کی آواز آئی کہ صوفے کو سرخ شراب سے رنگ دیا گیا ہے۔ کیری نے کہا کہ "تم کسی چیز کی ذمے داری نہیں اٹھاتے۔ نہ مال کی اور نہ کسی اور چیز کی"۔

اپارٹمنٹ کی عمارت میں سکونت پذیر ایک 32 سالہ عرب پڑوسی خاتون فاطمہ نے بتایا کہ جھگڑے کی شدت بہت زیادہ تھی یہاں تک کہ میں نے ٹیلی وژن بند کر کے جو کچھ ہو رہا تھا اسے سننے کی کوشش کی۔

فاطمہ کے شوہر عمران سے جب مستقبل کے وزیراعظم کے اس تنازع پر تبصرہ کرنے کے لیے کہا گیا تو انھوں نے گارڈین اخبار سے کہا کہ "وہ بھی ایک انسان ہیں۔ ہم سب کہیں نہ کہیں غصے کا شکار ہوتے ہیں"۔