.

سعودی ولی عہد اور امریکی صدر کے درمیان ٹیلی فون پر تبادلہ خیال

دونوں رہنماؤں نے خطے کی صورت حال اور ایرانی خطرات کے حوالے سے تفصیلی بات کی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ٹیلیفون پر بات چیت ہوئی۔

العربیہ ڈاٹ‌ نیٹ کے مطابق ٹیلی فون پر ہونے والی بات چیت میں دونوں‌ رہ نمائوں‌ نے خطے کی تازہ صورت حال، ایران کی معاندانہ سرگرمیوں اور ان کے تدارک کے لیے اقدامات کے ساتھ عالمی بحری تجارت کو محفوظ بنانے کے لیے ضروری اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

دونوں رہ نمائوں کے درمیان تیل کی پیداوار کو مستحکم رکھنے، دوطرفہ تعلقات کو فروغ اور سعودی اور امریکی اقوام کے درمیان دوستانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر بات چیت کی گئی۔

ادھر جمعہ کے روز وائٹ ہائوس نے انکشاف کیا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے درمیان ہونے والی بات چیت میں ایرانی' دھمکیوں' پر بات چیت کی گئی۔ وائٹ ہائوس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نےایران پر محدود بمباری کا منصوبہ بنا لیا تھا تاہم بعد میں انہوں‌ نے اس پرعمل درآمد روک دیا۔

دونوں رہ نمائوں کے درمیان مشرق وسطیٰ میں امن واستحکام کے لیے سعودی عرب کی مساعی، عالمی تیل مارکیٹ کے استحکام اور ایران کے خطے میں جارحانہ اقدامات کی روک تھام کے لیے مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے پر بات چیت کی گئی۔

خیال رہے کہ امریکا اور ایران اس وقت حالت جنگ میں ہیں۔ گذشتہ ہفتے خلیج عُمَان میں دو تیل بردار جہازوں پر مبینہ طور پر ایران کے تخریب کار حملوں اور عالمی فضائی حدود میں امریکی ڈرون کو مار گرائے جانے کے واقعے کے بعد خطے میں جنگ کے بادل منڈلانے لگے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دی ہے کہ اس نے اپنا رویہ نہ بدلا تو تہران کے خلاف فوجی کارروائی کے سوا کوئی چارہ باقی نہیں بچے گا۔