.

موریتانیہ : صدارتی انتخابات کے لیے پولنگ ، سابق وزیر دفاع سمیت 6امیدواروں میں مقابلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

براعظم افریقا کے مغرب میں واقع مسلم اکثریتی ملک موریتانیہ میں نئے صدر کے انتخاب کے لیے ہفتے کے روز ووٹ ڈالے گئے ہیں۔صدارتی انتخابات میں ایک سابق وزیراعظم اور سابق وزیر دفاع سمیت چھے امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے۔

موریتانیہ کی آزادی کے بعد یہ پہلے صدارتی انتخابات ہیں جن کے نتیجے میں جمہوری طور پر انتقال ِاقتدار کا عمل مکمل ہوگااور نئے منتخب صدر موجودہ صدر محمد ولد عبدالعزیز کی جگہ اقتدار سنبھالیں گے۔ اس سے پہلے اس ملک میں فوجی جرنیل ہی حکومتوں کو برطرف کرتے رہے ہیں۔

موریتانیہ کی کل پچاس لاکھ سے کم آبادی میں سے قریباً پندرہ لاکھ افراد ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں۔صدارتی انتخابات کے ابتدائی نتائج آیندہ ہفتے متوقع ہیں۔کامیاب امیدوار کے لیے انتخاب میں 50 فی صد سے زیادہ ووٹ لینا ضروری ہے۔اگر کوئی بھی امیدوار مطلوبہ تعداد میں ووٹ حاصل نہ کر سکا تو پھر جولائی میں دوسرے مرحلے میں نئے صدر کے انتخاب کے لیے دوبارہ پولنگ ہوگی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق سابق وزیر دفاع اور مسلح افواج کے سابق سربراہ ریٹائرڈ جنرل محمد ولد شیخ محمد احمد الغزوانی صدارتی انتخاب میں کامیابی حاصل کر لیں گے۔ان کے مدمقابل پانچ صدارتی امیدواروں میں سب سے نمایاں سابق وزیراعظم سیدی محمد ولد ابوبکر سے ہیں اور اصل مقابلہ ان دونوں ہی کے درمیان ہے۔سیدی محمد کو موریتانیہ کی سب سے بڑی اسلامی جماعت کی حمایت حاصل ہے اور انتخابی مہم کے دوران میں انھوں نے بڑے بڑے جلسے کیے ہیں۔

سیدی محمد ابو بکر اور حزب اختلاف کے ایک اور صدارتی امیدوار محمد ولد مولود نے اپنے اپنے پولنگ مراکز پر ووٹ ڈالنے کے بعد انتخابی عمل میں ممکنہ فراڈ کے بارے میں اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔انھوں نے بالخصوص بین الاقوامی مبصرین کی عدم موجودگی اور حکمراں جماعت سے تعلق رکھنے والی ایک کمپنی کے پرنٹنگ پریس میں بیلٹ پیپروں کی چھپائی کی نشان دہی کی ہے۔

تاہم الیکشن حکام نے ان کے اس خدشے کو مسترد کردیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ووٹ پرچیوں کی چھپائی کا ٹھیکا دینے کے عمل میں کسی سیاسی وابستگی کو ملحوظ نہیں رکھا گیا تھا۔

موریتانیہ کے صدر محمد ولد عبدالعزیز 2008ء سے برسر اقتدار چلے آرہے ہیں ۔ انھوں نے تب صدر سیدی محمد ولد عبدالالہی کی حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار سنبھالا تھا اور 2009ء میں پہلی مرتبہ اور 2014ء میں دوسری مرتبہ بھاری اکثریت سے صدر منتخب ہوئے تھے۔اب وہ د ومرتبہ پانچ ، پانچ سال کی مدت کے لیے صدر رہنے کے بعد سبکدوش ہورہے ہیں لیکن تجزیہ کاروں کے مطابق وہ نئی حکومت پر اپنا اثر ورسوخ برقرار رکھیں گے۔انھوں نے سابق وزیر دفاع محمد ولد الغزوانی کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔

موریتانیہ کے آئین کے تحت کوئی صدر دو سے زیادہ مرتبہ بر سراقتدار نہیں رہ سکتا ہے۔صدر محمد ولد عبدالعزیز نے گذشتہ جمعرات کو ایک بیان میں کہا تھا کہ اگر مستقبل میں دو سے زیادہ مرتبہ صدر بننے پر عاید پابندی ختم کردی جاتی ہے تو وہ تیسری مدت کے لیے بھی صدر کا انتخاب لڑنے کی کوشش کریں گے۔ وہ داعش اور دوسرے انتہا پسند گروپوں کے خلاف جنگ میں خود کو امریکا اور مغرب کا اتحادی قرار دیتے رہے ہیں ۔ انھوں نے موریتانیہ میں امن وامان قائم کیا ہے اور معیشت کو بحال کیا ہے جس کی وجہ سے ان کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔

موریتانیہ براعظم افریقا کے شمال مغربی ساحلی علاقے میں واقع ہے۔اس کے مشرق میں صحارا کا صحرا ہے ۔اس نے 1960ء میں فرانس سے آزادی حاصل کی تھی۔