.

واشنگٹن نے عُمان کے ذریعے ایران کو پیغام بھیجنے کی تردید کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزارت خارجہ نے اُن رپورٹوں کے درست ہونے کی تردید کی ہے جن میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سلطنت عُمان کے ذریعے ایرانیوں کو پیغام بھیجا ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان مورگن آرٹاگس نے ہفتے کی صبح اپنی ٹویٹ میں کہا کہ یہ تمام رپورٹیں غلط ہیں اور یقینا یہ ایرانی پروپیگنڈے کا حصہ ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کے مطابق ایران کو امریکی سفارت کاری کا جواب سفارتی طریقے سے ہی دینا چاہیے۔

اس سے قبل برطانوی خبر رساں ادارے 'رائیٹرز' نے جمعے کے روز بتایا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کے روز خلیجی ریاست عُمان کے توسط سے ایران کو حملوں کی وارننگ دی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پیغام میں کہا کہ امریکا جنگ نہیں چاہتا بلکہ بات چیت میں دل چسپی رکھتا ہے۔ جن ثالثوں نے امریکی پیغام خامنہ ای تک پہنچایا ان کا کہنا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر نے بات چیت کی تجویز مسترد کر دی ہے۔ انہوں‌ نے خبردار کیا کہ امریکا کی کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی کے علاقائی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہوں‌ گے۔

ادھر امریکی ٹی وی چینل 'NBC' کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ پیشگی شرائط کے بغیر ایران کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ بات چیت خامنہ ای یا ایرانی صدر کسی کے بھی ساتھ ہو سکتی ہے۔

ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جنگ نہیں چاہتے مگر انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایسا ہوا تو اس کا نتیجہ "وسیع قتل عام" کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے۔ امریکی صدر نے اپنے انٹرویو میں واضح کیا کہ تہران کے ساتھ کسی بھی معاہدے میں ایرانی بیلسٹک میزائل کا معاملہ شامل ہونا چاہیے۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز امریکی اخبار 'نیو یارک ٹائمز' نے اپنی رپورٹ میں‌ کہا تھا کہ امریکا نے ایران پر بم باری کا منصوبہ تیار کر لیا تھا مگر صدر ٹرمپ نے اس پر عمل درآمد سے 10 منٹ قبل فیصلہ تبدیل کر دیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ٹرمپ کو آگاہ کیا گیا تھا کہ 3 ایرانی اہداف کو نشانہ بنانے کی کارروائی میں 150 کے قریب افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو سکتے ہیں۔

امریکی صدر نے اپنی ٹویٹس میں کہہ چکے ہیں کہ ہمیں ایران کے خلاف کوئی بھی کارروائی کرنے میں‌ کوئی عجلت نہیں اور ایران کبھی بھی ایٹمی طاقت نہیں‌ بن سکتا۔

البتہ امریکی فوج کے سابق وائس چیف آف اسٹاف جنرل جیک کین نے Fox News کے ساتھ انٹرویو میں ایران پر حملہ ملتوی کر دینے کی دوسری وجہ بیان کی۔ ریٹائرڈ جنرل کے مطابق اس طرح کی معلومات موصول ہوئیں کہ ایرانی قیادت اُس زمینی کمانڈر پر چراغ پا ہے جس نے امریکی ڈرون طیارے کو مار گرانے کا حکم دیا تھا۔ ایرانی قیادت کے نزدیک وہ اس نوعیت کی اشتعال انگیزی نہیں چاہتے۔