.

امریکا نے ایران کی فضائی حدود میں ڈرون بھیج کر خطے میں نئی کشیدگی آغاز کردی : حسن روحانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی صدر حسن روحانی نے امریکا پر الزام عاید کیا ہے کہ وہ خطے میں کشیدگی کو بڑھاوا دے رہا ہے اور اس کے فوجی ڈرون نے ایران کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تھی جس کے بعد خطے میں صورت حال کشیدہ ہوگئی ہے۔

ایرانی حکومت نے گذشتہ جمعرات کو اپنی فضائی حدود میں امریکا کے ایک بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے کو مار گرایا تھا ۔اس نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ امریکا کا یہ ڈرون اس کے علاقے میں جاسوسی کے مشن پر تھا۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس کے ردعمل میں کہا تھا کہ ایرانی حملے کا نشانہ بننے والاامریکی ڈرون بین الاقوامی فضائی حدود میں تھا، ایرانی علاقے میں نہیں تھا اور اس کو بلا اشتعال حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا۔

ایران کی نیم سرکاری خبررساں ایجنسی فارس کے مطابق صدر روحانی نے اتوار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’امریکیوں کی یہ نئی جارحیت خطے میں ان کی جانب سے ایک نئی کشیدگی کا آغاز ہے‘‘۔ان کا اشارہ امریکا کے ڈرون کی جانب تھا۔

انھوں نے کہا کہ ’’ یہ خطہ بہت ہی حساس ہے اور بہت سے ممالک کے لیے یہ اہمیت کا حامل ہے۔اس لیے ہم بین الاقوامی اداروں سے یہ توقع کرتے ہیں کہ وہ ( ڈرون کے واقعے پر ) مناسب انداز میں ردعمل ظاہر کریں گے‘‘۔