.

ایردوآن کی مداخلت سےترک عوام کا عدلیہ پراعتماد اُٹھ چکا: نیویارک ٹائمز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جوانی کی عمر میں موجودہ ترک صدر رجب طیب ایردوآن کو ایک سیاسی مجمع میں متنازع نظم پڑھنے کی پاداش میں جیل کی ہوا کھانا پڑی تھی۔ وہ وقت اور آج کا وقت ایردوآن خود کو آزادی اور انصاف کا ہیرو بنانے کو بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔ مُلک میں اپنے ابتدائی دور حکومت میں انہوں نے قابل قدر عدالتی اصلاحات کیں جنہیں عوامی سطح‌ پر سراہا گیا۔

امریکی اخبار'نیویارک ٹائمز' نے اپنی رپورٹ میں‌ تُرکی میں عدلیہ کی آزادی اور ترک صدرکی طرف سے عدلیہ کے معاملات میں مداخلت پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا ہےکہ ترکی میں صدر ایردوآن کی مداخلت کے نتیجے میں عوام کا عدالتوں پراعتبار اٹھ چکا ہے۔

ایردوآن کے پہلے برسوں کے دور اقتدار میں عوام کا عدلیہ پر اعتبار بڑھا مگروقت گذرنے کے ساتھ ساتھ ایردوآن نے اقتدار پراپنی گرفت مضبوط بنانے کے لیے عدلیہ کو ایک مہرے کے طورپر استعمال کرنا شروع کیا۔ اس کا عوام الناس پر منفی اثر پڑا اور لوگوں نے عدالتوںً‌پر اعتماد کرنا چھوڑ دیا۔ آج کےترکی میں عوام کو عدالتوں پر اعتماد نہیں رہا ہے۔

ایردوآن کے سیاسی مخالفین ان کے استبدادی اسلوب سیاست، حکمراں جماعت کےاندر من مانی اور ملک میں آمرانہ انداز حکمرانی کو ہدف تنقید بناتے ہیں۔ صدر ایردوآن کی اپنی پارٹی میں من مانی اور آمرانہ طرز سیاست کے باعث ترکی کے تمام شعبہ ہائے زندگی بالخصوص معیشت، تعلیم اور روزگار پر گہرے منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

تُرکی کی عدالتوں میں فیصلوں میں جلد بازی معمول بن چکی ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں تطہیر کا عمل جاری ہے اور عدالتوں کے جج خود حکومتی دبائوکےباعث خوف کا شکار رہتے ہیں جو آزادانہ فیصلے صادرکرنے میں ناکام ہیں۔

آج اتوار کو ترکی کے شہر استنبول میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کی دوبارہ پولنگ میں عوام کی توجہ عدلیہ کی آزادی پرمرکوز ہوسکتی ہے۔ ایردوآن کی جماعت 31 مارچ کے انتخابات کےنتائج کالعدم کرانے میں‌ کامیاب رہی جس کے بعد ترک الیکشن کمیشن نے استنبول کے میئر کے انتخابات دوبارہ کرانے کا اعلان کیا تھا۔

عدلیہ اپنی آزادانہ ساکھ کھو چکی

سابق جج اور اپیل کورٹ کے وکیل عمر فاروق امیناگ اوگلو کا کہنا ہےکہ ترکی کی موجودہ عدلیہ مکمل طورپر اپنی آزادنہ حیثیت کھو چکی ہے۔ عدالتیں حکومت کے سیاسی مقاصد کے لیے آلہ کار بن چکی ہیں۔یہ مسئلہ اچانک نہیں بنا بلکہ ترک حکومت کی طویل پالیسی نے عدلیہ کو اس مقام تک پہنچا دیا ہے۔

ترکی کی جیلوں میں کبھی اتنے زیادہ تعداد میں لوگوں کو قید نہیں کیا گیا جتنے ایردوآن کےدور میں قید کیےگئے ہیں۔ عدالتی نظام میں کئی کم زوریاں اور سقم پائے جاتے ہیں جن میں ججوں کے تجربے کی کمی اور حکومت کی طرف سے سخت دبائوعدلیہ کےوقارکو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

سنہ 2016ء کی ناکام فوجی بغاوت کے بعد ترکی کی عدلیہ کے خلاف بھی تطہیری مہم شروع کی گئی۔ اس مہم کے دوران 4000 ججوں کو نکال دیا گیا۔ ان کی جگہ ایرودآن کے وفادار لوگوں کو جن کی اکثریت تازہ یونیورسٹی کے فضلاء اور ناتجربہ کاروں پرمشتمل تھی کو جج بنا دیا تھا جن کے پاس عدالتوں میں کام کرنے کا کوئی خاص تجربہ اور مہارت نہیں تھی۔
ترکی میں وکلاء فیڈریشن کے چیئرمین متین فیزی اوگلو کا کہنا ہےکہ ترکی کی عدالتوں میں‌ججوں کی ناتجربہ کاری کا اندازہ اس امرسے لگایا جاسکتا ہے کہ 14 ہزار ایسے جج تعینات کیے گئے جن کا قانون کے شعبے میں کام کا تجربہ دو اڑھائی سال سے زیادہ نہیں۔

انتظامیہ کا سامنا

اچھے حالات میں‌بھی ترک عدالتوں کے ججوں میں حکومت اورانتظامیہ کا مقابلہ کرنے یا ان کی مخالفت کی ہمت نہیں ہوتی۔ ترک حکومت عدالتوں کو اپنے مہرے کے طورپر استعمال کرتی ہے۔مخالفین کےتعاقب اور انہیں نیچا دکھانےکے لیے عدالتیں ایک حربہ ثابت ہو رہی ہیں۔

اس میں کوئی شبہ نہیں کی ایردوآن اور ان کی جماعت کے لوگ جانتے ہیں کہ بحران قریب تر ہورہا ہے۔ گذشتہ ماہ ترک صدر نے ملک میں بعض اقتصادی اور عدالتی اصلاحالات کا اعلان کیا۔ ان اصلاحات کامقصد عدالتوں کی آزادی پراٹھنے والے سوالات کم کرنا اور ملک میں سرمایہ کاری کے لیے ماحول سازگار بنانا تھا۔

ایوان صدر میں ججوں اور عدالتوں سے وابستہ عہدیداروں کے ایک اجلاس سے‌ خطاب میں صدر ایردوآن نے کہا کہ اصلاحات میں عوامی خدمت کو ترجیح دی جائے گی، عدلیہ کی آزادانہ اورغیر جانب دارانہ حیثیت کم سےکم وقت میں مقدمات نمٹانے اور زیادتی کرنے والوں کو جلد از جلد قانون کے مطابق سزا دلوانے کی کوشش کی جائے گی۔

ایک ترک ماہر قانون فیسیل اوک کا کہنا ہے کہ اچھی بات یہ ہے کہ حکومت کو عدلیہ میں‌موجود کمزوریوں کا اندازہ ہوا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ دستور میں تمام حقوق فراہم کرنے کی ضمانت موجود ہے۔ مقامی قوانین ہوں‌یا یورپی معاہدے ہوں، وہ بہرحال اصلاحات کو نقصان نہیں پہنچاتے۔