.

سعودی عرب ، یو اے ای ، برطانیہ اور امریکا نے خطے میں ایرانی کارروائیوں کی مذمت کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات ، برطانیہ اور امریکا نے ایک مشترکہ بیان میں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے ۔انھوں نے یمن اور خطے بھر میں ایران کی تخریبی سرگرمیوں سے لاحق خطرات پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے اور ان کی مذمت کی ہے۔

ان چاروں ممالک نے 12 مئی کو امارت فجیرہ کے نزدیک خلیج عُمان میں چار تیل بردار بحری جہازوں اور 13 جون کو آبنائے ہُرمز کے نزدیک دو آئیل ٹینکروں پر حملوں سمیت ایران کی خطے میں حالیہ کارروائیوں کی مذمت کی ہے۔

اتوار کو جاری کردہ مشترکہ بیان کے مطابق ’’ ان حملوں سے بین الاقوامی آبی گذرگاہوں کے لیے خطرات پیدا ہوگئے ہیں۔بحری جہازوں اور ان کے عملہ کو بین الاقوامی پانیوں سے محفوظ طریقے سے گذرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ہم ایران سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ خطے کے استحکام کے لیے خطرے کا موجب بننے والی کسی بھی کارروائی کو روک دے۔نیز ہم سفارتی ذرائع سے کشیدگی کے خاتمے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں‘‘۔

ان ممالک نے بیان میں یمن کے حوثی باغیوں کے ایرانی ساختہ بیلسٹک میزائلوں اور بغیر پائیلٹ طیاروں سے سعودی عرب پر حالیہ حملوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔انھوں نے بالخصوص 12 جون کو سعودی شہر ابھا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حوثیوں کے حملے کی مذمت کی ہے جس کے نتیجے میں 26 شہری زخمی ہوگئے تھے۔بیان میں سعودی عرب کی مکمل حمایت کا اظہار کرتے ہوئے ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے ان حملوں کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

چاروں ممالک نے یمن میں اقوام متحدہ کے تحت عالمی خوراک پروگرام کی امدادی سرگرمیوں کی معطلی پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔حوثی باغیوں نے دارالحکومت صنعاء میں عالمی خوراک پروگرام کی خوراک اور امدادی سامان کی تقسیم کے عمل میں رخنہ ڈالا تھا جس کے بعد اس نے امدادی سرگرمیاں معطل کردی ہیں۔

انھوں نے یمن میں جاری بحران کے حل کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کی ایک مرتبہ پھر تائید کی ہے، اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے یمن مارٹن گریفتھس کی مکمل حمایت کا اظہار کیا ہے اور یمن کے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ گذشتہ سال دسمبر میں سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں طے شدہ سمجھوتے پر عمل درآمد کے لیے خصوصی ایلچی سے تعمیری انداز میں بات چیت کریں ۔