.

سوڈان میں جاری بحران کے حل کے لیے ایتھوپیا کی سول اکثریتی انتظامی کونسل کے قیام کی تجویز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان کی حکمراں عبوری کونسل کے جرنیلوں سے مذاکرات کرنے والے ایتھوپیا کے ایک ایلچی نے ملک میں جاری بحران کے حل کے لیے سول بالادستی کی حامل عبوری انتظامی کونسل کے قیام کی تجویز پیش کی ہے۔

سوڈان کی احتجاجی تحریک کے دو رہ نماؤں نے ہفتے کے روز بتایا ہے کہ ایتھوپیا کے ایلچی نے پندرہ رکنی عبوری انتظامیہ کا خاکا پیش کیا ہے اور اس میں سویلین کی اکثریت ہوگی اور قیادت بھی ان کے پاس ہوگی۔

سوڈان میں سابق مطلق العنان صدر عمر حسن البشیر کی برطرفی کے بعد سے جاری بحران کے حل کے لیے ایتھوپیا کے وزیراعظم ابی احمد ثالثی کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ان کے ایلچی محمود ضریر فوجی جرنیلوں کے بعد احتجاجی تحریک کے لیڈروں سے سیاسی انتقال اقتدار سے متعلق اپنے مجوزہ خاکے کے بارے میں بات چیت کرنے والے تھے۔

ایک احتجاجی لیڈر امجد فرید نے کہا ہے کہ دستاویز میں سابقہ سمجھوتوں کا حوالہ دیا گیا ہے اور اس میں پندرہ ارکان پر مشتمل ایک خود مختار کونسل کی تشکیل کی تجویز پیش کی گئی ہے۔اس میں آٹھ شہری اور سات فوجی ارکان شامل ہوں گے۔شہری ارکان میں سے سات کا تعلق احتجاجی تحریک کے اتحاد برائے آزادی اور تبدیلی سے ہوگا۔

احتجاجی تحریک کے ایک اور لیڈر مدنی عباس مدنی نے بھی ایتھوپیا کی پیش کردہ سولین کی بالادستی کی حامل انتظامی کونسل کی مفاہمتی تجویز کی تصدیق کی ہے۔

احتجاجی تحریک کے لیڈروں اور فوجی جرنیلوں نے اپنی گذشتہ بات چیت میں تین سال کے عبوری دور اور تین سو ارکان پر مشتمل پارلیمان کے قیام سے اتفا ق کیا تھا۔ مجوزہ پارلیمان کے دوتہائی ارکان احتجاجی تحریک سے نامزد کیے جائیں گے۔

واضح رہے کہ احتجاجی تحریک کے لیڈروں نے تین جون کو دارالحکومت خرطوم میں وزارت دفاع کے باہر دھرنے کے شرکاء کے خلاف خونیں کریک ڈاؤن کے ردعمل میں فوجی کونسل کے لیڈروں سے مذاکرات معطل کردیے تھے۔اس کے بعد ایتھوپیا کے وزیراعظم ابی احمد نے اپنی مصالحتی کوششیں تیز کردی تھیں ۔

سوڈان کے حکمراں جرنیلوں نے 11 اپریل کو سابق مطلق العنان صدر عمر حسن البشیر کی معزولی کے بعد کئی مرتبہ یہ کہا تھا کہ وہ دھرنے کے شرکاء کو منتشر نہیں کریں گے مگر ا س کے باوجود مظاہرین کے خلاف فوجی وردیوں میں ملبوس اہلکاروں نے طاقت کا استعمال کیا تھا جس کے نتیجے میں کم سے کم ایک سو تیس افراد ہلا ک ہوگئے تھے۔

تاہم سوڈان کی وزارتِ صحت نے فوج کے ہیڈ کوارٹر کے باہر اور ملک کے دوسرے علاقوں میں صرف 61 ہلاکتوں کی تصدیق کی تھی۔اس کریک ڈاؤن کے بعد فوجی کونسل نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ اس نے سکیورٹی فورسز کو مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کا حکم نہیں دیا تھا بلکہ انھیں صرف دھرنے کے آس پاس موجود منشیات کے ڈیلروں کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی تھی۔