.

ترکی روس سے ایس-400 میزائل نظام کے سودے سے دستبردار نہیں ہوگا: طیب ایردوآن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے ایک مرتبہ پھر کہا ہے کہ ان کا ملک روس سے ایس -400 میزائل دفاعی نظام کی خریداری کے سودے سے پیچھے نہیں ہٹے گا اور اس کو روس سے جولائی میں یہ میزائل نظام وصول جائے گا۔

انھوں نے منگل کے روز ایک نشری تقریر میں کہا ہے کہ ’’ایس-400میزائل نظام کے معاملے کا تعلق ہماری خود مختاری سے ہے،ہم اس سے پیچھے نہیں ہٹیں گے‘‘۔

دریں اثناء معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹو کے صدر دفاتر میں متعیّن امریکا کی سفیر نے کہا ہے کہ اگر ترکی نے روس سے فضائی نظام خرید کیا تو امریکا ترک فورسز کو ایف-35 لڑاکا جیٹ اڑانے اور ترکی کے پرزوں کی تیاری سے روک دے گا۔

امریکی سفیر کے بیلے ہوچی سن نے برسلز میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’تمام اشارے اس بات کے غماز ہیں کہ روس ترکی کو میزائل نظام مہیا کرنے والا ہے اور اس کے مضمرات ہوں گے۔ترکی کو ایف 35 نظام سے لاتعلق کردیا جائے گا۔ہم یہ نہیں چاہتے کہ اتحاد میں روسی نظام سے یہ طیارے متاثر ہوں یا غیر مستحکم ہوں‘‘۔

امریکا اورا س کے اتحادی ماضی میں متعدد مرتبہ اپنے نیٹو اتحادی ترکی سے یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ اپنے ہاں ایس-400 روسی نظام کو نصب نہ کرے کیونکہ اس ٹیکنالوجی سے روس کو لڑاکا جیٹ کی اڑان کے بارے میں مکمل پتا چل جائے گا۔اس وقت دشمن کے راڈار اور گرمی کے سنسر ان طیاروں کا سراغ نہیں لگا سکتے۔

لیکن ترک صدر امریکا اورا س کے اتحادیوں کے اس مطالبے کو تسلیم کرنے سے انکار کرچکے ہیں۔ ان کے درمیان پہلے ہی شام میں جاری بحران ، ایران کے خلاف پابندیوں اور امریکا کے قونصلر عملہ کو زیر حراست رکھنے پر اختلافات پائے جارہے ہیں۔

امریکا کا کہنا ہے کہ لاک ہیڈ مارٹن کارپوریشن کے تیار کردہ لڑاکا جیٹ ایف 35 کی وجہ سے نیٹو کی فورسز کو فضائی محاذ پر کئی لحاظ سے تکنیکی برتری حاصل ہے۔یہ دشمن کے مواصلاتی نیٹ ورکس اور فضائی سنگنلز کو تہس نہس کرسکتے ہیں۔

ترکی امریکا سے معاہدے کے تحت اس وقت ایف -35 کے ایندھن کے حصے ، لینڈنگ گئیر اور کاک پٹ کے حصے تیار کررہا ہے۔ہوچی سن کا کہنا تھا کہ ’’ ترکی ان پرزوں کی تیاری میں ایک اہم شراکت دار رہا ہے لیکن روس کے بارے میں سکیورٹی تحفظات اس سے بھی زیادہ اہمیت کے حامل ہیں۔اس لیے ہم میں سے بہت سوں نے ترکی کو روس سے اس سودے دستبردار کرانے کی کوشش کی ہے‘‘۔

ترک صدر رجب طیب ایردوآن اسی ہفتے جاپان میں ہونے والے جی-20 سربراہ اجلاس کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔نیٹو کے ایک سینیر سفارت کار کے مطابق اس تناز ع کے کسی حل کا یہ آخری موقع ہوگا۔ تاہم صدر ایردوآن اس بات پر مُصر ہیں کہ امریکا جو کچھ بھی کہتا رہے، ترکی روس سے میزائل دفاعی نظام کی خریداری کے سودے سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ اس کے ردعمل میں امریکا نے ترکی کو ایف 35 لڑاکا جیٹ مہیا کرنے کا عمل منجمد کرنے کا اعلان کر دیا تھا اور امریکی محکمہ دفاع نے پہلے ہی ترک پائیلٹوں کو ایف 35 لڑاکا جیٹ کو اڑانے کی تربیت دینے کا عمل روک دیا تھا۔