.

تیل بردار جہازوں پر حملے بین الاقوامی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے : سلامتی کونسل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کی عالمی سلامتی کونسل نے مئی میں امارات کے ساحل کے مقابل چار بحری جہازوں اور رواں ماہ سلطنت عُمان کے ساحل کے مقابل دو بحری جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کی شدید مذمت کی ہے۔ یہ موقف پیر کے روز ہونے والے بند کمرے کے اجلاس میں سامنے آیا جو دو تک گھنٹے تک جاری رہا۔ سلامتی کونسل نے تمام فریقوں سے اپیل کی ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں۔

اس سلسلے میں کویت کی جانب سے تیار کیے جانے والے پریس ریلیز کو متفقہ طور پر جاری کیا گیا۔ بیان میں سلامتی کونسل نے تیل بردار جہازوں پر حالیہ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں تیل کی عالمی رسد اور بین الاقوامی سلامتی اور امن کے لیے خطرہ قرار دیا۔

اس موقع پر اقوام متحدہ میں قائم مقام امریکی سفیر جوناتھن کوہین جنہوں نے یہ ہنگامی اجلاس طلب کیا تھا ،، انہوں نے کونسل کے سامنے اپنی بریفنگ میں بتایا کہ بحری جہازوں پر حملوں کے حوالے سے ان کی تحقیقات جاری ہیں۔ کوہین کے مطابق ابتدائی نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ ان حملوں کا ذمے دار ایران ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ حملے میں استعمال ہونے والی بارودی سرنگیں اُس نوعیت کی ہیں جو ایران میں تیار ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ ایرانی کشتی کا نہ پھٹنے والی بارودی سرنگ کی واپسی کے لیے ایک بحری جہاز کی طرف جانا بھی اہم شواہد میں سے ہے۔

علاوہ ازیں سلامتی کونسل نے امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے علاج کے واسطے بات چیت کا مطالبہ کیا اور خلیج میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔

اجلاس میں واضح کیا گیا کہ تمام فریقوں پر لازم ہے کہ وہ اُس عسکری تصادم سے پیچھے ہٹ جائیں جس کے واقع ہونے کا اندیشہ ہے۔

عالمی برادری کا یہ مشترکہ موقف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر نئی پابندیاں عائد کیے جانے کے چند گھنٹوں بعد سامنے آیا ہے۔ نئی پابندیوں میں ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای اور آٹھ دیگر قائدین کو لپیٹ میں لیا گیا ہے۔

برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے علاحدہ طور پر جارحیت کم کرنے، بات چیت کرنے اور بین الاقوامی قوانین کے مکمل احترام کا مطالبہ کیا ہے۔