.

جوہری سمجھوتے کے تقاضوں سے انحراف: ایران 7 جولائی کو نئے اقدامات کرے گا!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران چھے عالمی طاقتوں سے طے شدہ جوہری سمجھوتے سے بتدریج دستبرداری کے لیے سات جولائی کو نئے اقدامات کرے گا اور وہ اس کی بعض شقوں اور تقاضوں پر عمل درآمد روک دے گا۔

اس بات کا ا علان ایران کی سپریم سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی شمخانی نے منگل کے روز ایک بیان میں کیا ہے ۔ایران کی نیم سرکاری خبررساں ایجنسی فارس کے مطابق علی شمخانی نے کہا کہ جوہری سمجھوتے پر دست خط کرنے والے یورپی ممالک نے اس کو بچانے کے لیے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے ہیں۔

مگر یہ تینوں یورپی ممالک (فرانس ، برطانیہ اور جرمنی) ایران کو 2015ء میں طےشدہ جوہری سمجھوتے کی پاسداری سے انحراف کی صورت میں سنگین نتائج سے پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں اور انھوں نے اسی ہفتے ایران کو باضابطہ طور پر سرکاری سفارتی ذرائع سے انتباہ جاری کیا ہے۔

تین مغربی سفارت کاروں نے گذشتہ روز بتایا تھا کہ ان یورپی ممالک نے 22 جون کو ایران کو باضابطہ طور پر سفارتی مراسلہ بھیجا تھا اوراس میں ایران کو جوہری سمجھوتے کے تقاضوں کو پورا نہ کرنے کی صورت میں مضمرات سے خبردار کیا گیا تھا۔تاہم ان نتائج یا جوابی اقدامات کی وضاحت نہیں کی گئی تھی۔

ایران یورپی ممالک سے یہ مطالبہ کررہا ہے کہ وہ اس کو امریکا کی پابندیوں سے بچاؤ کے لیے ٹھوس اقدامات کریں ۔اس ضمن میں اس نے 8 جولائی تک کا الٹی میٹم دے رکھا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ یورپی طاقتوں کو اس سے زیادہ وقت نہیں دے گا۔اس نے یہ بھی دھمکی دی ہے کہ اگر یورپی ممالک اس کو امریکا کی پابندیوں سے تحفظ دینے میں ناکام رہتے ہیں تو وہ یورینیم کی اعلیٰ سطح پر افزودگی شروع کردے گا۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ سال مئی میں اس جوہری سمجھوتے سے دستبردار ہونے کا ا علان کردیا تھا اور ان کی انتظامیہ نے 4 نومبر 2018ء کو ایران کے خلاف 2015ء میں ساقط کی گئی پابندیاں دوبارہ نافذ کردی تھیں ۔ان کے تحت ایران کی تیل کی برآمدات اور مالیاتی نظام کو ہدف بنایا گیا تھا ۔

امریکی صدر نے سوموار کو ایران کے خلاف نئی پابندیاں عاید کی ہیں اور ان کا مرکزی ہدف ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو بنایا گیا ہے۔ ایران کے خلاف یہ نئی پابندیاں گذشتہ ہفتے امریکا کے ایک ڈرون کو مار گرانے کے ردعمل میں عاید کی گئی ہیں۔