.

خامنہ ای کے بعد جواد ظریف بھی امریکی پابندیوں کی زد میں آ گئے: سٹیون منوچن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیرخزانہ سٹیون منوچن نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر پابندیوں کے نئے ایگزیکٹو آرڈر جاری کرنے کے بعد کہا ہے کہ رواں ہفتے ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف پربھی امریکی پابندیاں عاید کی جائیں گی۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکی فوجی ڈرون مار گرائے جانے کا واقعہ ایران کی ایک دانستہ کارروائی اور سوچا سمجھا منصوبہ تھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکی وزیرخزانہ نے کہا کہ ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف پر پابندیاں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی گئی ہیں تاہم انہوں‌ نے انٹیلی جنس کے ذریعے حاصل ہونے والی معلومات کے بارے میں مزید کوئی بات نہیں‌ کی۔

سٹیون منوچن کا کہنا تھا کہ ایرانی وزیرخارجہ پر عاید کی جانے والی بعض پابندیاں تیاری کی مرحلے میں ہیں اور بعض ایران کی حالیہ سرگرمیوں‌ پرعاید کی جائیں‌ گی۔

قبل ازیں امریکی وزارخزانہ کی طرف سے جاری بیان میں‌ کہا تھا کہ امریکا نے ایرانی سپاہ پاسداران انقلاب کے 8 سینیر عہدہ داروں‌ پر امریکا نے پابندیاں عاید کرنے کا اعلان کیا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای پر پابندیوں کے نفاذ کے لیے ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا ہے۔

انہوں‌ سٹیون منوچننے ایران پر دہشت گردی کی پشت پناہی ختم کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ تہران پر نئی اقتصادی پابندیاں گذشتہ جمعرات کو امریکی ڈرون طیارہ مارگراے جانے کا رد عمل ہیں۔