.

سپریم لیڈر پر امریکی پابندیاں بے سود ہوں گی: حسن روحانی

علی خامنہ ای کے بیرون ملک اثاثے نہیں ہیں: سرکاری ٹیلی ویژن پر خطاب میں ایرانی صدر کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے صدر حسن روحانی نے ملک کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے خلاف عاید کردہ نئی امریکی پانبدیوں کو مسترد کرتے ہوئے وائٹ ہاؤس کو "ذہنی طور پر پس ماندہ " قرار دیا ہے۔ایران ماضی میں ایسی تعبیر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی توہین کے لئے استعمال کرتا رہا ہے۔

سرکاری ٹیلی ویژن پر براہ راست نشریاتی خطاب میں صدر روحانی کا کہنا تھا کہ ’’علی خامنہ ای کے خلاف پابندیاں ناکامی سے دوچار ہوں گی کیونکہ سپریم لیڈ ر کے بیرون ملک کوئی اثاثہ جات نہیں۔‘‘ انھوں نے کہا کہ پابندیوں کا حالیہ مرحلہ دراصل ’’امریکا کی مایوسی کو ظاہر کرتا ہے۔‘‘

انھوں نے کہا کہ وائٹ ہاؤس کے اقدامات سے اس کی ’’ذہنی معذوری‘‘ ظاہر ہوتی ہے۔ ’’ایرانی صبر کی حکمت عملی کو خوف قرار دینا درست نہیں۔‘‘

حسن روحانی کا مزید کہنا تھا کہ ایران کے اعلی ٰ ترین سفارت کار جواد ظریف سمیت دیگر اعلیٰ ایرانی عہدیداران پر پابندیوں سے واشگٹن کا مذاکرات سے متعلق ’’جھوٹ‘‘ ظاہر ہوتا ہے۔کابینہ سے براہ راست نشریاتی خطاب میں حسن روحانی نے کہا کہ’’ ایک وقت میں جب آپ مذاکرات کی بات کریں اور ساتھ ہی وزیر خارجہ پرپابندیاں لگا رہے ہوں، تو ایسے میں آپ کاجھوٹ نمایاں ہو جاتا ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ سپریم لیڈر خامنہ ای پر حالیہ امریکی پابندیاں بے سود ہیں کیونکہ وہ بیرون ملک اثاثوں کے مالک نہیں ہیں۔

ایران صدر نے اپنے خطاب میں جن خیالات کا اظہار کیا وہ دراصل قومی سلامتی کے امریکی مشیر جان بولٹن کے اس بیان کے بعد سامنے آئے جن میں انھوں نے دعوی کیا تھا کہ ’’ واشنگٹن نے حقیقی مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا ہے، تاہم اس کے جواب میں ایران کی مسلسل خاموشی پر گماں ہوتا ہے کہ تہران تک ہماری بات نہیں پہنچ رہی۔