.

صدر ٹرمپ کی امریکی مفادات پر حملے کی صورت میں ایران کے خلاف طاقت کے استعمال کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دی ہے کہ اگر اس نے امریکا کی کسی چیز کے خلاف حملہ کیا تواس کے ردعمل میں اس کے خلاف طاقت کا استعمال کیا جائے گا جبکہ ایران نے کہا ہے کہ امریکا کی نئی پابندیوں کے بعد کسی سفارت کاری کا کوئی جواز باقی نہیں رہ گیا ہے ۔اس نے وائٹ ہاؤس کے اقدامات کو ’’دماغی خلل‘‘ کا نتیجہ قرار دیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے منگل کے روز ٹویٹر پر ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ ’’ ایران بہت گنوار ہے ،اس نے آج بہت توہین آمیز بیان جاری کیے ہیں اور وہ یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ایرانی حقیقت سے بے خبر ہیں۔ایران کی جانب سے کسی امریکی چیز پر حملے کا بھرپور طاقت سے جواب دیا جائے گا۔بعض صورتوں میں اس ’’ بھرپور‘‘ کا مطلب مکمل تباہی ہوگا‘‘۔

دوسری جانب ایران نے کہا ہے کہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور دوسرے اعلیٰ عہدے داروں پر نئی امریکی پابندیوں کا مطلب یہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان سفارت کاری کے دروازے بند کیے جارہے ہیں اور ملک کے صدر وائٹ ہاؤس کا ایک ’’ ذہنی اپاہج‘‘ کے طور پر مضحکہ اڑا رہے ہیں‘‘۔

صدر حسن روحانی نے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے خلاف امریکا کی پابندیوں کو’’ شرم ناک اور احمقانہ ‘‘ قرار دیا ہے کیونکہ ان کے بہ قول 80 سالہ ایرانی لیڈر تو امریکا جانے والے نہیں تھے۔

انھوں نے کہا ’’ آپ وزیر خارجہ جواد ظریف پر پابندیاں عاید کررہے ہیں اور اس کے ساتھ ان سے مذاکرات کی درخواست بھی کررہے ہیں۔ وائٹ ہاؤس ذہنی عارضے میں مبتلاہے اور اس کو کچھ معلوم نہیں کہ کیا کیا جانا چاہیے‘‘۔

وہ امریکی صدر کے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن کے اسرائیل میں ایران کو مذاکرات کی پیش کش سے متعلق بیان کا حوالہ دے رہے تھے۔جان بولٹن نے کہا تھا کہ ’’ امریکا کے سفارتی نمایندے مشرقِ اوسط بھر میں موجود ہیں اور وہ امن کی راہ تک رہے ہیں۔اس کے ردعمل میں ایران نے مکمل خاموشی اختیار کررکھی ہے‘‘ ۔

ان کا کہنا تھا:’’سادہ سی بات ہے،ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ ایران نے جوہری ہتھیاروں سے دستبرداری کے لیے کوئی تزویراتی فیصلہ کیا ہے اور اس فیصلے کے اظہار کے لیے کوئی حقیقت پسندانہ مکالمے کا عمل بھی شروع کیا ہے‘‘۔

اس کے چند گھنٹے کے بعد جان بولٹن نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ’’ اگر ایران کم تر افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو بڑھانے کا فیصلہ کرتا ہے تو پھر تمام آپشنز زیر غور ہیں۔یہ ان ( ایرانیوں) کے مفاد میں نہیں ہوگا کہ وہ ایسا کریں لیکن انھوں نے حال ہی میں بہت سے ایسے کام کیے ہیں جو فی الواقع ان کے مفاد میں نہیں ہیں۔‘‘