.

ٹرمپ نے ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا ہے : بولٹن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے پابندیاں سخت کیے جانے کے بعد بھی ایران کے سامنے اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کا راستہ کھلا ہے۔

انہوں نے یہ بات منگل کے روز بیت المقدس میں سہ فریقی (امریکا، روس اور اسرائیل) سیکورٹی سربراہ اجلاس کے دوران کہی۔ بولٹن کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حقیقی مذاکرات کے واسطے دروازہ کھلا چھوڑ دیا ہے تا کہ ایرانی جوہری ہتھیاروں کے پروگرام ، بیلسٹک میزائل پروگرام، بین الاقوامی دہشت گردی کے لیے تہران کی سپورٹ اور دنیا بھر میں ایران کی دیگر شر پسندی پر مکمل قابو پایا جا سکے۔

بولٹن کا مزید کہنا تھا کہ امریکی نمائندے اس امید کے ساتھ خطے کے دورے کر رہے ہیں کہ وہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کا راستہ تلاش کر لیں گے۔ تاہم ایران کی خاموشی "بہرے پن کا پتہ دے رہی ہے"۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ اس بات کی کوئی سادہ دلیل نہیں ہے کہ ایران نے جوہری ہتھیاروں سے دست برداری کے لیے کوئی تزویراتی فیصلہ کیا ہے۔

جان بولٹن کا یہ تبصرہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای پر پابندیاں عائد کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔

ادھر ایرانی وزارت خارجہ نے امریکا کی طرف سے نئی پابندیوں کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام کا مطلب دونوں ملکوں کے درمیان سفارت کاری کے راستے کو مستقل طور پر بند کر دینا ہے۔