.

چین اور امریکا کے درمیان کشیدگی مگر ٹرمپ کو "بار آور ملاقات "کی اُمید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان بڑھتی ہوئی تجارتی جنگ کے باوجود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کے روز اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ جی - 20 سربراہ اجلاس کے ضمن میں تجارتی اختلافات پر بات کرنے کے لیے ان کی چینی ہم منصب شی جن پنگ کے ساتھ ملاقات "تعمیری" ہو گی۔

جاپان کے شہر اوساکا میں ٹرمپ نے کہا کہ ہفتے کے روز ہونے والی ملاقات ان کے نزدیک مفید رہے گی۔

چینی اخبار ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ نے جمعرات کے روز ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ واشنگٹن اور بیجنگ ایک سمجھوتے کا فارمولا ترتیب دے رہے ہیں جس کے ذریعے 300 ارب ڈالر مالیت کی چینی درآمدات پر کسٹم ڈیوٹی عائد کرنے کے آئندہ مرحلے سے اجتناب کیا جا سکے گا۔

امریکی صدر نے بدھ کے روز کہا تھا کہ آئندہ ہفتے کے آغاز پر چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ ایک تجارتی معاہدہ طے پا سکتا ہے۔ تاہم ٹرمپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر دونوں ملکوں کے بیچ اختلافات جاری رہے تو وہ چین کی بقیہ درآمدات پر کسٹم ڈیوٹی عائد کرنے کے لیے تیار ہیں۔

دوسری جانب چین کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے جمعے کے روز صدر شی جن پنگ کے حوالے سے بتایا ہے کہ خلیج کا علاقہ اس وقت انتہائی حساس بن چکا ہے جو جنگ اور امن کے دوراہے پر کھڑا ہے۔ چینی صدر نے اس موقع پر جذبات کو قابو میں رکھنے اور بحران کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کا مطالبہ کیا۔

چینی خبر رساں ایجنسی (شینہوا) کے مطابق چینی صدر نے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کو آگاہ کیا ہے کہ چین ہمیشہ سے امن کی ساتھ کھڑا ہوتا ہے اور جنگ کی مخالفت کرتا ہے۔ شی جن پنگ نے یہ بات اوساکا میں جی - 20 سربراہ اجلاس کے موقع پر انتونیو گوتیریس سے ملاقات کے دوران کہی۔