.

سوڈانی پولیس کی احتجاجی مظاہروں کے ہزاروں شرکاء پر اشک آور گیس کی شیلنگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان کے دارالحکومت خرطوم میں تین مقامات پر اتحاد برائے تبدیلی اور آزادی کے زیر اہتمام حکمراں فوجی کونسل کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں ہزاروں افراد نے شرکت کی ہے۔ پولیس نے انھیں منتشر کرنے کے لیے اشک آو ر گیس کے گولے پھینکے ہیں۔

سوڈانی پولیس نے خرطوم کے شمالی علاقے باری اور مشرق میں واقع معمورہ اور وارکویت میں مظاہرین کے خلاف اشک آور گیس کا استعمال کیا ہے۔مظاہرین سول حکمرانی کے حق میں نعرے بازی کررہے تھے۔

عینی شاہدین کے مطابق سکیورٹی فورسز نے مشرقی شہر القضارف میں بھی مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے چلائے ہیں۔خرطوم کے جڑواں شہر اُم درمان میں بھی احتجاجی تحریک کی اپیل پر ہزاروں افراد نے احتجاجی ریلیوں میں شرکت کی ہے۔

ان مظاہروں سے ایک روز قبل سوڈان کی حکمراں عبوری فوجی کونسل نے احتجاجی تحریک کو خبردار کیا تھا کہ وہ اتوار کو تشدد کے کسی بھی واقعے کی ذمے دار ہوگی۔کونسل نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’’اس وقت ملک سنگین بحران سے دوچار ہے ۔اگر (حزب اختلاف کے) مارچ میں کوئی بھی جان جاتی ہے تو اتحاد برائے آزادی اور تبدیلی اس کا مکمل طور پر ذمے دار ہوگا‘‘۔

حزب اختلاف کے گروپو ں اور احتجاجی تحریکوں پر مشتمل اس اتحاد نے اتوار کو خرطوم میں اپنے مطالبات کے حق میں ایک بڑی ریلی نکالنے کا اعلان کیا تھا ۔وہ عبوری فوجی کونسل سے اقتدار فوری طور پر ایک سول حکومت کے حوالے کرنے کا مطالبہ کررہا ہے۔

یہ احتجاجی تحریک 3 جون کو خرطوم میں وزارت دفاع کے باہر احتجاجی دھرنے کے شرکاء کے خلاف مسلح فورسز کے خونیں کریک ڈاؤن کے بعد کچھ ماند پڑ گئی تھی اور اب وہ دوبارہ عوام کو سڑکوں پر لے آئی ہے۔اُس کریک ڈاؤن میں کم سے کم ایک سو افراد ہلاک ہوگئے تھے ۔