.

شمالی کوریا اور امریکا جوہری اسلحہ سے متعلق مذاکرات پر تیار

ٹرمپ، کم جونگ سے ملاقات کے لئے اسلحہ سے پاک مقام پر پہنچے اور وہاں سے پیدل شمالی کوریا داخل ہوئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان کے درمیان شمالی اور جنوبی کوریا کی سرحد پر اسلحہ سے پاک علاقے میں پچاس منٹ تک ملاقات ہوئی۔ ملاقات کے بعد صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’’ہماری ملاقات شاندار رہی‘۔

انھوں نے بتایا کہ مسٹر کم جونگ نے ملاقات کی تفصیلات کو آگے بڑھانے کے لئے ’’ورکنگ گروپ‘‘ تشکیل دینے پر اتفاق کیا ہے۔ نیز پیونگ یانگ اور واشنگٹن ورکنگ گروپ کی سطح پر مذاکرات کے لئے تیار ہو گئے ہیں۔

صحافیوں سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا ’’اگلے چند ہفتوں کے اندر شمالی کوریا اپنے جوہری ہتھیاروں سے متعلق مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع ہونے پر تیار ہو گیا ہے۔ دونوں ملکوں کا مشترکہ وفد تین ہفتوں کے اندر اجلاس منعقد کرے گا جن میں شمالی کوریا کے جوہری پروگرام سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’’صدر کم جونگ ہماری آج کی گفتگو کی روشنی میں ورکنگ گروپ تشکیل دینے کے لئے تیار ہو گئے ہیں۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایسے میں جنوبی کوریا پر پابندیوں کا کوئی جواز نہیں۔ یہ امر اس بات کا اشارہ تھا کہ وہ جنوبی کوریا پر عاید پابندیوں کو مذاکرات کے دوران کسی وقت ہٹا سکتے ہیں۔

مذاکرات کا مقصد شمالی کوریا کو اپنا جوہری اسلحہ ترک کرنے پر تیار کرنا ہے۔

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اتوار کے روز ایک تاریخی پیش رفت کرتے ہوئے شمالی کوریا کے صدر کم جون ان کی معیت میں پیدل شمالی کوریا میں داخل ہوئے، جہاں انہوں نے کم جونگ کو وائٹ ہاؤس دورے کی دعوت دی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا انہیں پیدل چلتے ہوئے شمالی کوریا آنے والے پہلے امریکی صدر ہونے پر ’’بہت اچھا‘‘ لگ رہا ہے۔ انہیں شمالی کوریا کے رہنما کم کے ساتھ ’’عظیم دوستی‘‘ پر ناز ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’’آج دنیا کے لئے بہت بڑا دن ہے۔ انہیں اسلحہ سے پاک علاقے کی سرحد عبور کر کے بہت زیادہ فخر محسوس ہو رہا ہے۔ کم جون ان نے کہا کہ ہم ماضی کو پیچھے چھوڑنا چاہتے ہیں تاکہ مستقبل کی جانب پیش قدمی کر سکیں۔‘‘

صدر ٹرمپ کے بتایا کہ ’’دونوں ملکوں کے تعلقات میں بہت زیادہ بہتری آئی ہے۔‘‘ اس کے جواب میں کم جونگ ان نے کہا: ’’اگر ہمارے تعلقات اچھے نہ ہوتے تو آج کی ملاقات ممکن نہ ہوتی ۔۔ ہم اس موقع کو ایسی اچھی خبروں کے لئے استعمال کرنا چاہتے ہیں جن کی کسی کو توقع نہ تھی۔‘‘

کم جونگ ان نے شمالی کوریا کا دورہ کرنے والے پہلے امریکی صدر بننے پر ڈونلڈ ٹرمپ کی تعریف کی۔ ان کے بقول یہ ’’فیصلہ کن اور دلیرانہ اقدام‘‘ ہے۔ صدر ٹرمپ سے ’’اچھے‘‘ تعلقات سے ہمیں ’’مشکلات پر قابو پانے میں مدد ملی۔‘‘

بعد ازاں دونوں رہنماؤں نے بند کمرے میں مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوا۔

اس سے پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اتوار کے روز شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان اسلحہ سے پاک علاقے میں پہنچے ۔ صدر ٹرمپ نے ملاقات کی تجویز ٹویٹر پیغام میں ایک دن پہلے اس وقت دی تھی جب شمالی کوریا کے جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات کا سلسلہ امسال فروری میں ویتنام کے مقام پر ملاقات کے بعد سے تعطل کا شکار چلا آ رہا ہے۔ صدر ٹرمپ جنوبی کوریا کے صدر مون جئے اور امریکی فوجیوں کے ہمراہ شمالی کوریا کے سامنے ایک چوبترے پر کھڑے ہوئے۔

جنوبی کوریا نے ایک اعلان میں بتایا تھا کہ شمالی کوریا کے رہنما امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اسلحہ سے پاک شمالی اور جنوبی کوریا کی سرزمین پر ملاقات کے لئے رضا مند ہو گئے ہیں۔ جنوبی کوریا کے صدر مون جئے کے مطابق امریکی اور شمالی کوریا کے صدر اتوار کے روز اسلحہ سے پاک علاقے میں اتوار کے روز ملاقات کریں گے۔ صدر ٹرمپ نے بھی اسلحہ سے پاک علاقے کے دورے کے موقع پر صدر کم جونگ سے ملاقات کی تصدیق کی تھی۔

صدر مون جئے نے مزید بتایا کہ امریکا اور شمالی کوریا کے رہنما ’’پین منجون‘‘ کے مقام پر امن کی خاطر مصافحہ کریں گے۔ بین منجون شمالی اور جنوبی کوریا کی سرحد پر واقع میونسپلٹی ہے جو دونوں ملکوں کے درمیان تقسیم کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ کم جونگ ان سے ملاقات کے خواہش مند ہیں۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ ملاقات ’مختصر‘ ہو گی۔ میں کم جونگ ان سے ہاتھ ملاؤں گا اور انہیں ’ہیلو‘ کہوں گا کیونکہ ہم ویتنام کے بعد نہیں ملے۔ یہ درست سمت اٹھایا جانے والا ایک قدم ہے۔‘‘

جنوبی کوریا کے صدر مون جئے بھی اسلحہ سے پاک اس خطے میں موجود ہیں حالانکہ توجہ کا مرکز کم جونگ ان اور ٹرمپ ہی رہے گی۔ صدر مون جئے کا کہنا تھا ’’کہ ٹرمپ اور کم تیسری سربراہی ملاقات آج ہونے والے بات چیت کی بنیاد پر طے کی جائے گی۔‘‘

مذاکرات کا تسلسل انتہائی اہم ضرورت اور کورین جزیرہ نما میں قیام امن کی واحد صورت ہے۔

رواں سال فروری کے مہینے میں ویتنام کے شہر ہنوئی میں صدر ٹرمپ اور کم جونگ ان کے درمیان ملاقات کے بعد سے یہ کچھ کھٹائی میں پڑ گئے ہیں۔ سنہ 2018 میں دونوں رہنماؤں کے درمیان سنگاپور میں ہونے والے اجلاس کا دوسرا دور، ڈی نیوکلیر آئزیشن کے لیے شمالی کوریا کی رضامندی کے بغیر ہی ختم ہو گیا تھا۔ صدر ٹرمپ نے اسے ایک ’برا معاہدہ‘ قرار دیا تھا۔

صدر ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دیتے آئے ہیں کہ اقتصادی پابندیوں کے خاتمے کے لیے شمالی کوریا کو اپنے ایٹمی ہتھیار تلف کرنا ہوں گے۔ ہنوئی مذاکرات کے بعد سے شمالی کوریا نے کم فاصلے تک نشانہ بنانے والے کئی میزائلوں کا تجربہ کرکے ٹرمپ انتظامیہ کے غصہ کو بڑھانے کا خطرہ مول لیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے شمالی کوریا کو ایک مرتبہ سخت اقدامات کی دھمکی دی تھی لیکن گذشتہ چند مہینوں میں کم جونگ ان کے بارے میں ان کا لہجہ مصالحت آمیز ہو گیا ہے۔

گذشتہ ہفتے انھوں نے شمالی کوریا کے رہنما کو ایک ذاتی خط بھی بھیجا تھا جس کے مندرجات کو کم جونگ ان نے ’شاندار‘ قرار دیتے ہوئے ان کی تعریف کی۔ اس مہینے کے آغاز میں رپورٹروں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کم جونگ ان کی زیرِ قیادت شمالی کوریا میں ’زبردست صلاحیت‘ موجود ہے۔ مئی کے مہینے میں جاپان کے دورے پر کم جونگ ان کو ’انتہائی سمجھدار انسان‘ کہتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ شمالی کوریا سے ’بہت سے اچھی امیدیں‘ رکھتے ہیں۔