.

ایرانی رہبرِ اعلیٰ خامنہ ای نے ایک مرتبہ پھر حج کو سیاسی رنگ دینے کا بیان داغ دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ایک مرتبہ پھر حج کو سیاسی رنگ دینے کا بیان داغ دیا ہے اور حج کو ایک ’سیاسی کام‘ قرار دیا ہے۔

ایران کی سرکاری اسلامی جمہوریہ نیوز ایجنسی ( ایرنا) کے مطابق انھوں نے بدھ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’حج کو سیاسی نہ بنانا ایک بڑی غلطی تھی اور مجبوروں ومقہوروں کی مدد کرنا اسلامی ذمے داری ہے‘‘۔

خامنہ ای نے سعودی عرب سے مطالبہ کیا ہے وہ عازمینِ حج کے تحفظ کو یقینی بنائے لیکن ساتھ ہی انھوں نے کہا ہے کہ حج کو سیاسی رنگ دینے کی مخالفت یا اس عمل سے روکنا ’’ دین مخالف‘‘ فعل ہے۔

خامنہ ای کا کہنا تھا کہ عازمین حج کو سکیورٹی مہیا کرنے کے لیے سعودی عرب پر بھاری ذمے داری عاید ہوتی ہے لیکن اس کو اس مقصد کے لیے’ سکیورٹی مرتکز ‘ماحول نہیں بنانا چاہیے۔

واضح رہے کہ ایران میں 1979ء میں برپا شدہ انقلاب کے بعد سے اس کے لیڈر قریب قریب ہر سال ہی حج کو سیاسی بنانے کے بیانات داغتے رہتے ہیں اور ایران ماضی میں حج کے موقع پر الحرمین الشریفین میں سرکاری سطح پر گڑ بڑ پھیلانے کی بھی کوشش کرتا رہا ہے۔ سعودی عرب کو ایران کے اس طرح اپنے داخلی امور میں دخل اندازی پر مبنی بیانات اور اقدامات پر گہری تشویش لاحق رہی ہے۔

حج اسلام کا پانچواں رکن ہے اور سیاسی اختلافات کے باوجود یہ تمام دنیا سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کے درمیان اتحاد ویگانگت کے فروغ کا ایک اہم ذریعہ ہے ۔ حج کے موقع پر ہر طرح کے رنگ ونسل ، علاقوں ، ملکوں اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے فرزندانِ توحید ایک ہی جیسے لباس میں ملبوس تلبیہ کا ورد کرتے نظر آتے ہیں اور ان کے درمیان رنگ ونسل کے امتیازات عملاً مٹ جاتے ہیں۔

مگر گذشتہ برسوں کے دوران میں ایران کی حج کے موقع پر مسلم امہ کے درمیان اتحاد کو پارہ پارہ کرنے اور گڑ بڑ پھیلانے کی کوششوں کے مہلک نتائج برآمد ہوتے رہے ہیں۔ایرانی نظام کی شہ پر 1987ء اور 1989ء میں حج کے موقع پر پُرتشدد واقعات پیش آئے تھے جن کے نتیجے میں سیکڑوں افراد مارے گئے تھے۔

گذشتہ سال 23 لاکھ سے زیادہ فرزندانِ توحید نے فریضہ حج ادا کیا تھا ۔اس سال مناسکِ حج کا 9 اگست کو آغاز ہوگا اور یہ 14 اگست کو پایہ تکمیل کو پہنچیں گے۔