.

ایران کا یورینیم افزودگی کی مقررہ حد پار کرنا بُرا فیصلہ ہے: ٹرمپ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے افزودہ یورینیم کی حد تجاوز کرنے کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے تہران کا ایک بُرا فیصلہ قرار دیا ہے۔

بدھ کے روز اپنی ٹویٹ میں امریکی صدر نے کہا کہ تہران اُن کے منصب صدارت پر فائز ہونے سے پہلے طویل عرصے سے 2015 میں طے پانے والے جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران ،،، امریکا اور دیگر ممالک کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے کو پامال کر رہا ہے جس کی قیمت 150 ارب ڈالر ہے۔ (آئی ایم ایف کی جانب سے 1.8 ارب ڈالر اس کے علاوہ ہیں)۔

ٹرمپ کے مطابق افزودہ یورینیم کے حوالے سے مقررہ حد کی اب خلاف ورزی ہو چکی ہے جو قطعا ایک اچھا اقدام نہیں ہے۔

یاد رہے کہ ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے پیر کے روز اعلان کیا تھا کہ ایران جوہری معاہدے کے تحت مقرر کردہ افزودہ یورینیم کی حد سے تجاوز کر چکا ہے۔ ایرانی طلبہ کی خبر رساں ایجنسی ISNA کے مطابق ظریف نے کہا کہ میری معلومات کی بنیاد پر ایران کم افزودہ یورینیم کی 300 کلو گرام کی حد پار کر چکا ہے۔

ادھر ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی نے بھی ایران کی جانب سے افزودہ یورینیم کی مقررہ حد سے تجاوز کر جانے کی تصدیق کی ہے۔

مئی 2018 میں امریکی صدر کی جانب سے یک طرفہ طور پر جوہری معاہدے سے علاحدگی کے فیصلے کے جواب میں ایران نے رواں سال 8 مئی کو اعلان کیا تھا کہ وہ جوہری معاہدے کی دو اہم شقوں کا پابند نہیں رہا۔ یہ شقیں بھاری پانی کے ذخیرے کو 130 ٹن اور افزودہ یورینیم کی مقدار کو 300 کلو گرام سے زیادہ نہ بڑھنے دینے سے متعلق ہیں۔

تہران نے یہ دھمکی بھی دے رکھی ہے کہ اگر جوہری معاہدے پر دستخط کرنے والے دیگر ممالک (جرمنی، چین، فرانس، برطانیہ اور روس) نے امریکی پابندیوں سے بچنے کے لیے ایران کی مدد نہ کی تو ،،، تہران 7 جولائی سے یورینیم کو 3.67% سے زیادہ کی سطح پر افزودہ کرنے کا آغاز کر دے گا۔ یہ جوہری معاہدے میں مقررہ سطح سے اعلی شرح ہے۔ اس کے علاوہ ایران ملک کے وسطی علاقے میں بھاری پانی کے ری ایکٹرز کی تعمیر کے منصوبے کا دوبارہ آغاز کر دے گا۔