.

جوہری سمجھوتے کی شرائط پرعمل درآمد کا انحصار ایران پر ہے: یورپی یونین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپی ملکوں جرمنی، فرانس، برطانیہ اور یورپی یونین کی مندوب نے ایک مشترکہ بیان میں واضح‌ کیا ہے کہ چار سال قبل ایران کے ساتھ کئے گئے جوہری سمجھوتے پرعمل درآمد کا انحصار ایران کے رویے پر منحصر ہے۔ اگر ایران معاہدے کی شرائط پر ان کی روح کے مطابق عمل کرتا ہے تو یورپی ممالک بھی معاہدے کی پاسداری کریں‌ گے۔

منگل کے روز یورپی وزراء خارجہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کی طرف سے یورینیم کی مقرر کردہ مقدار سے زیادہ افزودگی پرانہیں 'شدید تشویش' ہے۔

بیان میں کہا گیا ہےکہ یہ امر انتہائی افسوسناک ہے کہ ایران نے یورینیم کی مجاز مقدار سے زیادہ افزودہ کرکے جوہری ہتھیاروں کے پھیلائو کی روک تھام کے لیے کی جانے والی کوششوں‌ کومشکوک بنا دیا ہے۔

بیان میں ایران پر زور دیا گیا ہے کہ وہ جوہری معاہدے کی خلاف ورزیوں سے باز رہے اور معاہدے کی خلاف ورزی کا سبب بننے والے اقدامات سے گریز کرے۔

ایران کی طرف سے یورپی ممالک کو پانچ دن کی مہلت دی گئی تھی جس میں تہران نے خبردار کیا تھا کہ اگر یورپی ملکوں‌ نے 7 جولائی تک متبادل تجارتی روڈ میپ اور ایرانی بنکوں‌ کے ساتھ کاروبار شروع نہ کیا تو ایران 2015ء میں طے پائے جوہری معاہدے کی پابندی نہیں‌ کرے گا۔

سوموار کو ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے اعتراف کیا تھا کہ ان کے ملک نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یورینیم افزودگی کی 300 کلو گرام مقرر کردہ حد سے تجاوز کیا ہے۔

عالمی جوہری ادارے 'آئی اے ای اے' نے بھی کہا ہے کہ ایران نے 2015 کے عالمی جوہری معاہدے میں مقرر کی گئی کم افزودہ یورینیم کی مقررہ حد سے زیادہ یورینیم ذخیرہ کر لی ہے۔

عالمی جوہری توانائی ایجنسی کا کہنا ہے کہ اس کے معائنہ کاروں نے تصدیق کر دی ہے کہ تین سو کلو کی جو حد طے کی گئی تھی ایران نے اسے عبور کر لیا ہے۔

ادھر امریکا کا کہنا ہے کہ اس کی ’زیادہ سے زیادہ دباؤ کی حکمتِ عملی جاری رہے گی۔‘ امریکی صدر کے دفتر کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کو کسی بھی سطح پر یورینیم کی افزودگی کی اجازت دینا ایک غلطی تھی۔