.

محاصرے کے دوران تیونسی دہشت گرد کی خودکش کارروائی

ایمن السمیری دو روز قبل دارلحکومت میں ہونے والے خودکش حملوں میں پولیس کو مطلوب تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس کے دارلحکومت کی مضافاتی کالونی میں قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہل کاروں نے بدھ کی شب ایک دہشت گرد کو محاصرے میں لے لیا جس کے بعد ایمن السمیری نامی دہشت گرد نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔

تیئس سالہ دہشت گرد ایمن السمیری سے متعلق وزارت داخلہ نے سوموار کے روز ایک وارننگ جاری کرتے ہوئے اس کی گرفتاری میں مدد کی اپیل کی تھی۔ ایمن المسیری ملک میں ہونے والے حالیہ دو بم دھماکوں میں حکام کو مطلوب تھا۔ یہ دھماکے گذشتہ جمعرات کو دارلحکومت تیونس کے وسطی علاقے میں ہوئے تھے۔

وزارت داخلہ کے مطابق سیکیورٹی حکام نے محاصرے کے دوران مفرور ملزم السمیری کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔ حکام نے تیونس کی الانطلاقہ کالونی میں ملزم کا تادیر پیچھا کیا لیکن وہ گرفتار نہیں کیا جا سکا۔ بدھ رات گئے کی جانے والی کارروائی میں سیکیورٹی اہلکار محفوظ رہے۔

مقامی رات شب گیارہ بجے شروع ہونے والے آپریشن کے بعد علاقہ زوردار دھماکوں کی آوازوں سے لرز اٹھا جن کے بارے میں خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ دہشت گرد السمیری کی خودکش جیکٹ پھٹنے کے نتیجے میں ہوئے۔ دھماکے کے بعد جاری کردہ تصاویر السمیری کی لاش کے ٹکڑے الانطلاقہ کالونی کے میٹرو اسٹیشن کے قریب دیکھے جا سکتے تھے۔

تیونس کی وزارت داخلہ نے جمعرات کے روز ایک اعلان میں بتایا تھا کہ دارلحکومت میں ہونے والے دو خودکش حملوں میں ایک سیکیورٹی اہلکار جبکہ تین شہریوں سمیت پانچ افراد زخمی ہوئے۔ اس خودکش حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔