.

امریکی پابندیوں کا خطرہ: ترکی نے فوجی آلات کے فاضل پرزے ذخیرہ کرنا شروع کر دیے

شمالی قبرص پر ترک فوج کے قبضے کے بعد امریکی اسپیئر پارٹس کی خریداری پر 4 سال کی پابندی لگائی تھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حوصلہ افزا بیانات کے علی الرغم ترکی بدترین حالات کا سامنا کرنے کی پیش بندی کر رہا ہے۔ عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق ترک حکومت واشنگٹن کی طرف سے ممکنہ پابندیوں سے بچنے کے لیے امریکی ہتھیاروں اور بڑے پیمانے اسلحہ کے فاضل پرزہ جات ذخیرہ کرنا شروع کر دیے ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی 'بلومبرگ' کی ویب سائٹ پر اس حوالے سے شائع ایک تفصیلی رپورٹ‌ میں کہا گیا ہے کہ ترکی اہم نوعیت کے امریکی اسلحہ کے اسپیئر پارٹس ذخیرہ کر رہا ہے۔ یہ اس لیے کہ اگر امریکی کانگرس انقرہ پر امریکی اسلحہ کی خریداری پر پابندی عاید کرتی ہے تو ترکی کے پاس اس اسلحہ کے اسپیئر پارٹس کی کوئی کمی نہ رہے۔ ترکی کو خدشہ ہے کہ اگر اس نے روس سے اس کے فضائی دفاعی نظام 'ایس 400' خرید کرنے پر اصرار جاری رکھا تو اس کے نتیجے میں امریکا، انقرہ پراسلحہ کی پابندیاں عاید کر سکتا ہے۔ روسی ساختہ دفاعی نظام'ایس 400' پچھلے سال کے آخر سے ترکی اور امریکا کے درمیان وجہ نزاع بنا ہوا ہے۔

بلومبرگ کی رپورٹ‌ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ترکی نے اسلحہ کے لئے فاضل پرزہ جات کا ذخیرہ کب سے شروع کیا ہے مگر ترک حکام کا کہنا ہے کہ امریکی پابندیوں سے بچنے کے لیے تمام تیاریاں کر لی گئی ہیں۔

خیال رہے کہ امریکا نے 2018ء میں ترکی کو دھمکی دی تھی کہ روس سے اس کا فضائی دفاعی نظام'ایس 400 ' خریدنے باز رہے اور اس کے بدلے میں امریکی ساختہ پیٹریاٹ میزائل خریدے ورنہ اس پر پابندیاں عاید کی جائیں گی۔

ماضی کا خوف اور موجودہ اختلافات

امریکا اور ترکی کے درمیان اختلافات اور ایک دوسرے پر پابندیوں کی ایک طویل تاریخ ہے۔ سنہ 1974ء کو شمالی قبرص پر ترک فوج نے قبضہ کیا جس کے جواب میں امریکا نے فوری طور پر ترک فوج پر امریکی اسلحہ کے اسپیئرپارٹس کی خریداری پر 4 سال کی پابندی عاید کر دی۔ ترکی نے اس پابندی سے بچنے کے لیے نصف صدی قبل بھی وہی طریقہ اختیار کیا تھا جو آج اپنایا گیا ہے۔ نصف صدی پہلے بھی ترکی نے بڑی تعداد میں امریکی ہتھیاروں کے اسپیئر پارٹس جمع کرلیے تھے۔ ان میں امریکی جنگی طیاروں ' F-16' کے فاضل پرزے بھی شامل تھے۔

دونوں ملکوں میں‌ حالیہ اختلافات کی ایک بڑی وجہ شام کا تنازع بھی ہے۔ امریکا نے شام میں لڑنے والی ترک مخالف کرد ملیشیا کو اسلحہ فراہم کیا۔ ترکی اس گروپ کو دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے۔ سنہ 2016ء میں ترکی میں ناکام فوجی بغاوت کے بعد طیب ایردوآن نےاس بغاوت کا الزام ترکی میں مقیم مذہبی لیڈر فتح اللہ گولن پرعاید کیا۔ ترکی فتح اللہ گولن کو پناہ دینے پر بھی امریکا سے ناراض ہے۔ انقرہ متعدد بار واشنگٹن سے فتح اللہ گولن کی حوالگی کا مطالبہ کر چکا ہے تاہم ترکی کی طرف سے گولن کی حوالگی کے مطالبے کے لیے کوئی ٹھوس ثبوت فراہم نہیں‌ کیا گیا۔

ترک حکام نے روسی صدر ولادی میر پوتین کے ساتھ ہونے والی بات چیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ترکی نیٹو تنظیم کا رکن ہے۔ وہ نیٹو کا رکن ہونے کی وجہ سے بیلسٹک میزائل ٹکنالوجی حاصل کرنے کے لیے پرعزم ہے اور وہ 'ایس 500' میزائلوں کی نئی جنریشن تیار کرنے کی بھی کوشش کر رہا ہے۔ ترکی کے اخبار'خبر ترک' نے ایردوآن کا ایک بیان نقل کیا جس میں ان کا کہنا ہے کہ 'ایس 400' دفاعی نظام کے ٹرک جلد ہی ترکی پہنچ جائیں گے اور اس حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کر بھی آگاہ کردیا ہے۔

امریکا کی جانب سے ترکی کے ساتھ جاری تنازع کی ایک وجہ امریکی اسلحہ کےحوالے سے حساس درجے کی انٹیلی جنس معلومات تک روسیوں کی رسائی کا خدشہ بھی شامل ہے۔ چونکہ امریکی ایف 35 جنگی طیاروں کی تیاری اور اس کے بعض اجزاء کی تیاری میں ترک کمپنیاں بھی شامل ہیں اس لیے ان طیاروں کے اہم راز ترکی کے ذریعے روس بھی حاصل کر سکتا ہے۔

تُرکی کے روس سے دفاعی نظام کی خریداری پر اصرار پر امریکی کانگرس نے بھی ایک پلان تیار کیا ہے۔ اس منصوبے میں ترکی کے اقتصادی ڈھانچے پر بدترین پابندیاں بھی شامل ہیں۔ اگر ترک صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ سمجھتے ہیں کہ موجودہ بحران میں ترکی متاثر ہوتا ہے تو اس کی ذمہ داری سابق صدر باراک اوباما کی انتظامیہ پرعاید ہوتی ہے۔

ایردوآن کے دعوے اور تاویلات

گذشتہ ہفتے کے روز جاپان کے شہر اوساکا میں'جی 20' سربراہ اجلاس کے موقع پر ترک اور امریکی صدور کے درمیان ملاقات ہوئی۔ اس موقع پر امریکی صدر نے طیب ایردوآن کو بتایا کہ امریکا'ایس 400' دفاعی نظام کو دونوں‌ ملکوں کے درمیان کشیدگی کا اہم محرک سمجھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا نے اس حوالے سے مختلف حل تجویز کرنا شروع کیے ہیں۔ اس ملاقات کے بعد وائٹ ہاؤس سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ امریکی انتظامیہ کو انقرہ اور ماسکو کے درمیان 'ایس 400' دفاعی نظام کی خریداری کی ڈیل پر اعتراض اور سخت تشویش ہے۔

طیب ایردوآن نے میڈیا کو بتایا کہ ٹرمپ سے ملاقات میں انہیں ایسا کوئی اشارہ نہیں‌ ملا کہ امریکا ترکی پر پابندیاں عاید کرنے کی طرف جا رہا ہے۔

ترک حکام نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر'بلومبرگ' کو بتایا کہ انقرہ واشنگٹن کےساتھ پیٹریاٹ میزائلوں کی ڈیل کرتا ہے تو اس ڈیل کے مشکوک ہونے کی صورت میں امریکی کانگرس ہی اس کی مخالفت کرسکتی ہے۔ ایسے میں ترکی اپنی فضاء کو خطرے میں نہیں چھوڑ سکتا۔

متوقع پابندیاں

امریکی سینٹ میں حال ہی میں ایک ابل پیش کیا گیا جس میں ترکی کو اسلحہ کی فروخت پر پابندی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس بل کی پیشی سے قبل ہی ترکی نے امریکی ہتھیاروں کے اسپیئر پارٹس ذخیرہ کرنا شروع کر دیے تھے۔ امریکا کی طرف سے ترکی پر کم سے کم پابندی اسلحہ کے اسپیر پارٹس کی انقرہ کو فروخت کی صورت میں لگائی جا سکتی ہے۔

ترکی کا دفاعی پروگرام امریکی پابندیوں سےغیر معمولی حد تک متاثر ہو سکتا ہے۔ تاہم اگر ترکی امریکا سے اس کے تیار کردہ 'ایف 35 جنگی طیارے، پیٹریاٹ میزائل اور بھاری طرز کے ' CH-47F 'نامی شینوک ہیلی کاپٹر، UH -60 بلاک ہاک ہیلی کاپٹر اور جنگی طیارے'فالکن 'ایف 16' کی خریداری جاری رکھتا ہے تو انقرہ امریکی پابندیوں سے بچ سکتا ہے۔

اکتیس جولائی تک کی مہلت

امریکا نے ترکی کو 'ایف 35' جنگی طیاروں کے حصول کے حوالے سے 31 جولائی 2019ء تک کی مہلت دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ رواں ماہ کے آخر تک روسی دفاعی نظام'ایس 400' کی خریداری کی ڈیل روک دے۔

ترکی پر امریکا کی اسلحہ سے ہٹ کر دوسرے شعبوں میں بھی پابندیاں عاید کی جا سکتی ہیں۔ امریکی کانگرس روسی اسلحہ خریدنے والے اداروں اور ملکوں پر پابندیاں عاید کرنے کی سفارش کر سکتی ہے۔ امریکا کی سب سے بڑی اسلحہ ساز کمپنیوں کو امریکی مالیاتی نظام تک رسائی سے محروم رکھا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ترکی پر روزہ مرہ کی اشیاء کی تجارت پر بھی پابندی لگ سکتی ہے۔