.

امریکا رہبرِاعلیٰ اور دوسرے لیڈروں پرعاید پابندیاں ختم کردے تو مذاکرات ہوسکتے ہیں: ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے وزیر سراغرسانی نے کہا ہے کہ اگر امریکا رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای اور دوسرے اعلیٰ عہدے داروں پر عاید پابندیاں ختم کردے تو اس کے ساتھ بات چیت ہوسکتی ہے۔

ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایرنا کے مطابق وزیر سراغرسانی محمود علوی نے کہا کہ ’’ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پابندیاں ختم کردیں اور ہمارے رہبرِ اعلیٰ مذاکرات کی اجازت دے دیں تو امریکا کے ساتھ بات چیت بحال کرنے پر نظرثانی کی جاسکتی ہے‘‘۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’’ امریکی ایران کی فوجی قوت سے خوف زدہ ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ ایران پر حملے کے فیصلے سے دستبردار ہوگئے ہیں‘‘۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ ماہ کہا تھا کہ انھوں نے خلیج میں امریکی ڈرون کو مار گرانے کے ردعمل میں ایران پر حملہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا ۔ اگر وہ ایسا کرتے تو اس سے کم سے کم ڈیڑھ سو افراد ہلاک ہوسکتے تھے۔انھوں نے ایران کو بحران کے حل کے لیے مذاکرات کی پیش کش کی تھی۔

ایران نے گذشتہ سوموار کو 2015 ء میں چھے بڑی طاقتوں کے ساتھ طے شدہ جوہری سمجھوتے کی شرائط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقررہ مقدار سے 300 کلوگرام سے زیادہ افزودہ یورینیم کا ذخیرہ اکٹھا کر لیا ہے ۔ اس کے جواب میں یورپی طاقتوں نے الگ الگ بیانات میں ایران پر زور دیا تھا کہ وہ جوہری سمجھوتے کی شرائط کی خلاف ورزی سے گریز کرے اوریورینیم کو اعلیٰ سطح پر افزودہ کرنے کا عمل روک دے۔

اس مطالبے پر کان دھرنے کے بجائے ایرانی صدر حسن روحانی نے بدھ کو کہا تھا کہ ایران سات جولائی کے بعد اپنی مرضی کے مطابق جس سطح پر چاہے گا اور جتنی مقدار میں چاہے گا،یورینیم کو افزودہ کر سکے گا مگر وہ صرف ایک گھنٹے میں جوہری ڈیل کے تقاضوں کی پاسداری کی جانب لوٹ سکتا ہے۔اس کے ردعمل میں صدر ٹرمپ نے بدھ کو خبردار کیا تھا کہ ایران کواس طرح کی دھمکیوں کا خمیازہ بھگتنا پڑ سکتا ہے۔