.

امریکی مداخلت، سلامتی کونسل لیبیا میں مہاجرین کے کیمپ پر بمباری کی مذمت میں ناکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی طرف سے مداخلت کے باعث عالمی سلامتی کونسل بدھ کی شام لیبیا میں ایک مہاجر کیمپ پر کی گئی بمباری کی مذمت میں ناکام رہی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق گذشتہ روز سلامتی کونسل کی طرف سے لیبیا میں افریقی مہاجرکیمپ کے ایک حراستی مرکز پربمباری کی مذمت میں ایک بیان تیار کیا گیا تھا مگر امریکا کی مداخلت سے وہ بیان جاری نہیں‌ کیا جا سکا۔

خیال رہے کہ منگل کو جنگی طیاروں‌نے لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں ایک افریقی مہاجر کیمپ پر بمباری کی جس کے نتیجے میں 44 عام شہری جاں‌ بحق اور 80 سےزاید زخمی ہوگئے تھے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق لیبیا میں مہاجر کیمپ پرکی گئی بمباری کے بعد سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا۔ اجلاس دو گھنٹے جاری رہا۔ اس دوران برطانیہ کی طرف سے ایک بیان کا مسودہ پیش کیا گیا جس میں کیمپ پر بمباری کی مذمت کے ساتھ متحارب فریقین کے درمیان بات چیت اور فوری جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ تاہم امریکا نے لیبیا میں پناہ گزین کیمپ پر بمباری کی مذمت کا بیان جاری کرنے میں رکاوٹ پیدا کی۔

لیبیا میں اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن کا کہنا ہے کہ دارالحکومت طرابلس کےوسط میکں قائم مہاجرین مرکز پر بمباری کےنتیجے میں 44 افراد جاں بحق اور 130 زخمی ہوگئے تھے۔ اس واقعے کےبعد سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلایا گیا تھا۔

اجلاس سے قبل ایک سفارت کار نے بتایا کہ سلامتی کونسل کا اجلاس بند کمرے میں ہوگا۔ اقوام متحدہ کے لیبیا کے لیے مندوب غسان سلامہ نے مہاجرین کے مرکز پر وحشیانہ بمباری کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بے گناہ شہریوں پر وحشیانہ بمباری غیرانسانی فعل ہے۔

مہاجرین کے کیمپ پر بمباری کی ذمہ داری کسی گروپ نے قبول نہیں کی۔ بعض ذرائع کے مطابق یہ بمباری لیبیا کی قومی فوج کے طیاروں نے کی تھی تاہم جنرل خلیفہ حفتر کی فوج نے اس بمباری سےلاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔