.

سوڈان: عبوری فوجی کونسل اور احتجاجی قیادت کے مذاکرات میں اہم پیش رفت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان میں فوج کی قائم کردہ عبوری کونسل اور احتجاجی تحریک کی قیادت کے درمیان بدھ کی شام عبوری انتظامیہ کی تشکیل کے حوالے سے مذاکرات دوبارہ شروع ہوئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق فریقین میں‌ ہونے والی بات چیت میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔

خبر رساں‌ ادارے'اے ایف پی' کے نامہ نگار کے مطابق دونوں فریقین کی طرف سے مذاکرات کی بحالی کے دوران عبوری کمیٹی کی تشکیل پرغور کیا جا رہا ہے۔ یہ بات چیت آج دوسرے روز بھی جاری ہے۔

گذشتہ روز ہونے والے مذاکرات میں عبوری کونسل کے وائس چیئرمین جنرل محمد حمدان دقلو المعروف 'حمیدتی' سمیت تین سینیئر افسران اور احتجاج کرنے والی جماعتوں کے نمائندہ 'تبدیلی وآزادی اتحاد' کے پانچ مندوبین نے شرکت کی۔ خرطوم کے ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں ہونے والے مذاکرات میں ایتھوپیا اور افریقی یونین کے نمائندے بھی موجود ہیں۔

خیال رہے کہ سوڈان میں عبوری عسکری کونسل اور احتجاجی تحریک کے رہ نمائوں میں تین جون کو اس وقت مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے تھے جب فوج نے وزارت دفاع کے ہیڈ کوراٹر کے باہر دھرنا دینے والے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا تھا۔

بدھ کو مظاہرین کی قیادت کی طرف سے عبوری عسکری کونسل کے ساتھ مذاکرات شرائط جاری کی گئی تھیں۔ احتجاجی قیادت نے مذاکرات کے لیے دیگر شرائط کے ساتھ 72 گھنٹے کے اندر خود مختارعبوری کونسل کے قیام کی شرط بھی عاید کی تھی۔

ادھر سوڈان کی عبوری فوجی کونسل نے امید ظاہر کی ہے کہ انقلابی تحریک کے ساتھ دوبارہ شروع ہونے والے مذاکرات کامیاب رہیں گے۔ عبوری کونسل کا کہنا ہے کہ احتجاج کرنے والی جماعتوں کی جانب سے عبوری سیٹ اپ میں حقیقی شراکت ملک کی اصلاح، انسداد بدعنوانی، ملک میں امن وامان کی بحالی، اقتصادی ڈھانچے کی تشکیل نو، ملک میں‌ جمہوری سیاسی نظام کے فروغ اور عوام اور فوج کے درمیان احترام کا مؤثر ذریعہ ثابت ہو گی۔

عبوری کونسل کے رکن جنرل یاسر العطا نے 'الحدث' چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عبوری کونسل ملک میں‌ جمہوریت کی بحالی، آزادانہ اور شفاف انتخابات اور اقتدار ملک کی منتخب قیادت کے حوالے کرنے کے لیے کوششیں‌ کر رہی ہے۔

بدھ کو سوڈان کے مقامی وقت کے مطابق شام سات بجے عبوری عسکری کونسل اور احتجاجی قیادت کے درمیان ایک گھنٹے کی تاخیر سے مذاکرات شروع ہوئے۔ احتجاجی تحریک کے رکن عباس مدنی نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ مذاکرات کو طول دینے کا کوئی ارادہ نہیں۔ انہوں نے 72 گھنٹے کے اندراندر مذاکرات کے نتائج کے اعلان کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم ملک میں خود مختارعبوری کونسل کا قیام چاہتے ہیں جس میں سول انتظامیہ کو زیادہ اختیارات حاصل ہوں۔

اجلاس میں ثالث کے طورپر شریک افریقی یونین کے مندوب کا کہنا ہے کہ خرطوم میں جاری مذاکرات میں اہم امور پر بحث کی گئی۔ مذاکرات کے مثبت نتائج کی توقع ہے۔ بات چیت کا سلسلہ آج جمعرات کو بھی جاری رہے گا۔