.

شام کے لیے ایران کا خام تیل لانے والا مشتبہ سپر ٹینکر جبل الطارق میں پکڑا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ کی علاقائی حکومت نے یورپی یونین کی پابندیوں کے باوجود شام کے لیے ایران سے خام تیل لانے والے ایک مشتبہ آئل ٹینکر کو جبل الطارق ( جبرالٹر) کے مقام پر پکڑ لیا ہے۔

جمعرات کو علی الصباح شاہی میرینز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے عملہ نے آئل ٹینکر کا کنٹرول سنبھال لیا۔جبرالٹر حکومت نے ایک بیان میں بتایا کہ ’’ان کے پاس ایسی قابل یقین معلومات ہیں کہ گریس -1 نامی آئل ٹینکر پر خام تیل لدا ہوا تھا جسے شام میں بانیاس آئل ریفائنری لے جایا جا رہا تھا۔‘‘

جبرالٹر کے وزیر اعلیٰ فیبئین پیکارڈو کے مطابق ’’ہمیں یقین ہے کہ گریس-1 شامی آئل ریفائنری بیاناس کے لیے خام تیل لے کر جا رہا تھا۔‘‘ انھوں نے بتایا کہ بانیاس آئل ریفائنری ایسے شامی عناصر کی ملکیت ہے جن پر یورپی یونین نے پابندیاں عاید کر رکھی ہیں.

یاد رہے کہ شامی حکومت نے گذشتہ ہفتے بتایا تھا کہ بانیاس شہر میں زیر سمندر تیل کی متعدد پائپ لائنز کو ’’تخریبی‘‘ حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔

بعد ازاں شامی حکومت کی وزارت تیل اور معدنی دولت کے ذرائع نے بتایا کہ بانیاس آئل ریفائنری پائپ لائنز پر پر حملوں کے بعد پیدا ہونے والے وقتی تعطل کے بعد جلد دوبارہ کام شروع کر دے گی۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا تھا کہ ریفائنری پر موجود آئل ٹینکر میں ایک ملین بیرل خام تیل موجود ہے، جس ریفائنری پر ان لوڈ کیا جانا باقی ہے۔

بانیاس کا کنٹرول روس کے ہاتھ میں

تیل صاف کرنے والی بانیاس ریفائنری شام کے مغربی ساحل پر بانیاس شہر کے شمال میں واقع ہے۔ اس ریفائنری کا کنٹرول روس کے پاس ہے جو شامی حکومت کا سب سے بڑا حمایتی ہے۔ بانیاس آئل ریفائنری شام کی سب سے بڑی اور اکلوتی تیل کی بندرگاہ ہے۔

2016ء میں شامی حکومت نے یہاں سے اپنے تمام ملازمین واپس بلا کر بندرگاہ کا کںٹرول روس کے سپرد کر دیا تھا۔ روسی افسر اور فنی ماہرین اب تک وہاں مقیم ہیں اور فوجی کارروائیوں سمیت بندرگاہ آپریشن کے تمام امورانجام دے رہے ہیں۔ شامی اپوزیشن کا الزام ہے کہ روسی حکام وہاں ملازمین کے انتظامی امور بھی چلاتے ہیں۔یورپی یونین نے شامی حکومت اور اس کے مقرب افراد کے خلاف 2011 سے شامی جنرل پٹرولیم کارپوریشن پر پابندیاں عاید کر رکھی ہیں۔

2018 میں یورپی اتحاد نے ان پابندیوں میں مزید ایک برس کی توسیع کر دی۔ یہ اقدام شامی حکومت کی اپنے شہریوں کے خلاف ظالمانہ پالیسیوں کے تسلسل کی وجہ سے اٹھایا گیا۔