.

امریکا کا ایران کے معاملے پر عالمی توانائی ایجنسی کا خصوصی اجلاس بلانے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے ایران کی طرف سے یورینیم افزودگی میں اضافے کے اعلان کے بعد عالمی جوہری توانائی ایجنسی 'آئی اے ای اے' کا خصوصی اجلاس طلب کیا ہے۔

عالمی توانائی ایجنسی میں امریکی مشن کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ واشنگٹن نے بین الاقوامی جوہری ایجنسی کا خصوصی اجلاس بلایا ہے تاکہ ایران کے معاملے پر غور کیا جا سکے۔ خیال رہے کہ 'آئی اے ای اے' کے 35 رکن ممالک ہیں۔

ایجنسی کے سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ آئندہ بدھ کو ہونے والے اجلاس میں ایران کی یورینیم کی مجاز مقدار سے زاید افزودگی اور سنہ 2015ء کو طے پائے معاہدے کی خلاف ورزیوں پر غور کیا جائے گا۔

درایں اثناء امریکی قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے جوہری پروگرام پر دی گئی ہر طرح کی چھوٹ ختم کرنے پر غور شروع کیا ہے۔

ایک انٹرویو میں جان بولٹن نے کہا کہ ایران کا یورینیم افزودگی کی مجاز حد سے تجاوز کرنا اور ایرانی صدر حسن روحانی کی طرف سے یورینیم افزدوگی میں اضافے کا اعتراف اس بات کا ثبوت ہے کہ تہران جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے لیے بے لگام ہوتا جا رہا ہے۔

جان بولٹن کا کہنا تھا کہ ایران کے جوہری پروگرام پر تہران کو 7 طرح کی چھوٹ دی گئی تھیں۔ ایران کو دی گئی یہ تمام رعایتیں پہلے ہی پانچ تک کم کر دی گئی ہے۔

'آئی اے ای اے' میں روسی مندوب میخائل اولیا نوف نے ویانا میں ہونے والے اجلاس میں کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام کے تنازع پر آئندہ ہونے والے اجلاس میں جامع مذاکرات کیے جائیں گے۔

کویتی خبر رساں ایجنسی 'کونا' نے ایک سفارتی ذریعے کے حوالے سے خبر دی ہے کہ 'آئی اے ای اے' کا اجلاس آئندہ ہفتے ویانا میں ہوگا۔ اس اجلاس میں ایران کے جوہری پروگرام پر پید اہونے والے تنازع پر غور کیا جائے گا۔ یہ اجلاس ایک ایسے وقت میں طلب کیا گیا ہے جب دوسری طرف ایران نے افزودہ شدہ یورینیم کی 300 کلو گرام سے زیادہ کرنے کا دعویٰ‌ کیا ہے۔