.

سوڈانی رہنما کی خود مختار عُبوری کونسل میں غیر جماعتی شخصیات کی نمائندگی کی سفارش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان کی سیاسی جماعت 'حزب الامۃ' کے سربراہ صادق المہدی نے کہا ہے کہ ان کی جماعت نے ملک میں‌ جاری سیاسی بحران کے حل اور عبوری دور کے لیے اہم تجاویز پیش کی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ خود مختار عبوری کونسل میں سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کی شمولیت کے حامی نہیں بلکہ کونسل کے ارکان کے لیے غیر جماعتی اور غیر جانبدار شخصیات کی سفارش کریں گے۔

العربیہ سے بات کرتے ہوئے صادق المہدی کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت عبوری دور میں کوئی عہدہ قبول نہیں کرے گی۔ حزب الامۃ ملک میں سیاسی تنازعات کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ آئندہ صدارتی انتخابات میں امیدوار نہیں بنیں گے تاہم ملک میں موجود مسلح تنظیموں کو قومی دھارے میں لانے اور امن عمل شامل کرنے کے لیے کوششیں جاری رکھیں گے۔

خیال رہے کہ سوڈان کی حکمران عبوری فوجی کونسل، اپوزیشن اتحاد اور مظاہرین گروپوں کے درمیان مصالحت کے لئے سرگرم حلقوں کا کہنا ہے کہ "عبوری فوجی کونسل، اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد اور مظاہرین کے گروپوں کے درمیان انتخابات سے قبل کی عبوری مدت کے لئے اختیارات کی تقسیم کا ایک معاہدہ طے پا گیا ہے۔

افریقی یونین کے ثالث محمد حسن نے جمعہ کے روز ایک نیوز کانفرنس کو بتایا کہ’’ دو دنوں سے دارلحکومت خرطوم میں فریقین کے درمیان مذاکرات کے بعد ایک خودم ختار کونسل تشکیل دینا طے پایا ہے۔ تین برس کی عبوری مدت کے لئے کونسل کی سربراہی کے لئے ایک طے شدہ ضابطے کے تحت باری باری فوج اور سویلین نمائندے کریں گے۔‘‘

انھوں نے آزاد ٹیکنوکریٹ حکومت تشکیل دینے پر بھی اتفاق کیا جو حالیہ دنوں میں رونما ہونے والے پر تشدد واقعات کی شفاف اور آزادانہ تحقیقات کرے گی۔

فریقین نے فی الوقت قانون ساز کونسل کی تشکیل کو مؤخر کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ اس سے پہلے دونوں فریقوں نے اتفاق کیا تھا کہ آزادی اور تبدیلی اتحاد کو قانون ساز کونسل میں دو تہائی نشتیں ملیں گی، تاہم اس پر عمل درآمد سے پہلے قانون نافذ کرنے والے سوڈانی اداروں نے تین جون کو احتجاجی دھرنے کو تتر بتر کرنے کے لئے طاقت کا اندھا دھند استعمال کیا جس میں درجنوں افراد کی ہلاکت کے بعد مذاکرات ناکام ہو گئے۔

رواں ہفتے ایتھوپیا اور افریقی یونین کے نمائندوں کی جانب مصالحت کی کوششوں کے بعد سوڈان میں مذاکرات کا سلسلہ ایک بار پھر شروع ہوا جس میں ڈیڈ لاک کے خاتمے لئے تجاویز کا مسودہ پیش کیا گیا۔