.

جنرل برھان کا سوڈانی فریڈم فورسز کےساتھ طے پائے سمجھوتے کے نفاذ کا وعدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان کی عبوری عسکری کونسل کے چیئرمین میجر جنرل عبدالفتاح البرھان نے کہا ہے کہ کونسل اور فریڈم فورسز کے درمیان طے پائے سمجھوتے پر ہر صورت میں عمل کیا جائے گا۔

ہفتے کے روز خرطوم میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں جنرل البرھان نے کہا کہ سوڈانی قوم نے تاریخ دہرا دی ہے۔ فوج اور سویلین کی شراکت اقتدار ملک میں امن وانصاف کی منزل تک پہنچنے کا اعلان ہے۔

خیال رہے کہ سوڈان کی حکمران عبوری فوجی کونسل، اپوزیشن اتحاد اور مظاہرین گروپوں کے درمیان انتخابات سے قبل کی عبوری مدت کے لئے اختیارات کی تقسیم کا ایک معاہدہ طے پایا تھا۔

افریقی یونین کے ثالث محمد حسن نے جمعہ کے روز ایک نیوز کانفرنس کو بتایا کہ ’’دو روز سے دارلحکومت خرطوم میں مذاکرات جاری فریقین کے مذاکرات کے بعد ایک خودمختار کونسل تشکیل دینا طے پایا ہے۔ تین برس کی عبوری مدت کے لئے کونسل کی سربراہی باری باری فوج اور سویلین نمائندے کریں گے۔‘‘

انھوں نے آزاد ٹیکنوکریٹ حکومت تشکیل دینے پر بھی اتفاق کیا جو حالیہ دنوں میں رونما ہونے والے پرتشدد واقعات کی شفاف اور آزادانہ تحقیقات کرے گی۔

فریقین نے فی الوقت قانون ساز کونسل کی تشکیل کو مؤخر کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ اس سے پہلے دونوں فریقوں نے اتفاق کیا تھا کہ آزادی اور تبدیلی اتحاد کو قانون ساز کونسل میں دو تہائی نشتیں ملیں گی، تاہم اس پر عمل درآمد سے پہلے قانون نافذ کرنے والے سوڈانی اداروں نے تین جون کو احتجاجی دھرنے کو تتر بتر کرنے کے لئے طاقت کا اندھا دھند استعمال کیا جس میں درجنوں افراد کی ہلاکت کے بعد مذاکرات ناکام ہو گئے۔

رواں ہفتے ایتھوپیا اور افریقی یونین کے نمائندوں کی جانب مصالحت کی کوششوں کے بعد سوڈان میں مذاکرات کا سلسلہ ایک بار پھر شروع ہوا جس میں ڈیڈ لاک کے خاتمے لئے تجاویز کا مسودہ پیش کیا گیا۔