.

گرفتار کارکنوں‌ کی رہائی تک الجزائری اپوزیشن کا مذاکرات سے انکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

الجزائر میں حزب اختلاف کی جماعتوں نے اعلان کیا ہے کہ تمام گرفتار مظاہرین کی غیر مشروط رہائی تک حکومت سے کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہوں گے۔

اپوزیشن نے موجودہ حکومت تبدیل کرنے اور سابق حکومت کے عہدیداروں کو حکومت سے بے دخل کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

’’العربیہ‘‘ کے مطابق مغربی الجزائر میں عین البنیان ہوٹل میں ہونے والے اپوزیشن کے اجلاس میں تمام گرفتار مظاہرین کی غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا۔ اپوزیشن نے 'عوامی امنگوں کی نصرت' کے عنوان سے ایک مہم شروع کر رکھی ہے جس کا مقصد ملک میں حکومت کی تبدیلی اور اپوزیشن کے گرفتار رہ نمائوں اور کارکنوں کو رہائی دلوانا ہے۔

اجلاس میں ملک کی اہم سیاسی جماعتوں کے رہ نمائوں علی بن فلیس اور عبدالرزاق مقری نےبھی شرکت کی۔ اس کے علاوہ سول سوسائٹی کی تنظیموں، ٹریڈ یونین کے عہدیداروں، کالعدم جماعت کے رہ نمائوں علی جد اور کمال قمازی نےبھی شرکت کی، تاہم سابق صدر الیامین زروال، مولود حمروش اور مقداد سیفی جیسے رہ نمائوں نےشرکت نہیں کی۔

اس موقع پر عبدالرزاق مقری نے کہا کہ تمام اپوزیشن جماعتیں ملک کو موجودہ بحران سے نکالنے کے لیے مشترکہ ویژن پر متفق ہیں۔ انہوں‌ نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں ملک میں صدارتی انتخابات کے مطالبے پر ایک صفحے پر ہیں۔

سابق وزیر اعظم سید احمد غزانی نے ایک مقامی ویب سائیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اپوزیشن جماعتوں‌ کی طرف سے کانفرنس میں شرکت کی دعوت نہیں‌ دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں صرف حکومت کی طرف سے رواں سال 21 اپریل کو ہونے والے مذاکرات کی شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔