.

ترکی کے سابق نائب وزیراعظم حکمراں ’ آق ‘ کی رکنیت سے مستعفی ،نئی جماعت بنانے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے سابق نائب وزیراعظم علی بابا جان نے صدر رجب طیب ایردوآن کے زیر قیادت انصاف اور ترقی پارٹی (آق) میں اندرونی اختلافات کے بعد اپنی رکنیت سے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ حکمراں جماعت میں شدید اختلافات پائے جاتے ہیں اور ترکی کو اس وقت ایک نئے ویژن کی ضرورت ہے۔

علی بابا جان نے ترکی کے سابق صدر عبداللہ گل کے ساتھ مل کر اس سال ایک نئی سیاسی جماعت بنانے کا ارادہ ظاہر کیا ہے ۔اس جماعت کے قیام سے صدر ایردوآن کی عوامی حمایت میں مزید کمی واقع ہوگی جبکہ ان کے نامزد امیدوار سابق وزیراعظم بن علی یلدرم کو ملک کے سب سے بڑے شہر استنبول کے مئیر کے حال ہی میں منعقدہ انتخاب میں دو مرتبہ شکست سے دوچار ہونا پڑا ہے۔

بابا جان نے سوموار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ’’ ان کے لیے اب حکمراں آق کا بدستور رکن رہنا ناممکن ہو کررہ گیا ہے۔موجودہ حالات میں ترکی کو اپنے مستقبل کے لیے ایک بالکل نئے ویژن کی ضرورت ہے ۔ہر شعبے میں درست تجزیے ، نئی حکمت عملیوں، منصوبوں اور پروگراموں کی ضرورت ہے‘‘۔

انھوں نے کہا :’’ میں نے جماعت کو اپنا استعفا پیش کردیا ہے۔یہ اب ناگزیر ہوچکا ہے کہ ترکی کے حال اور مستقبل کے لیے نئی کوشش کی جائے۔میرے بہت سے ساتھی اور میں اس کوشش کے ضمن میں خود پر ایک تاریخی اور بھاری ذمے داری محسوس کرتے ہیں‘‘۔

علی بابا جان آق کے برسراقتدار آنے کے بعد ابتدائی برسوں میں پہلے ترکی کے وزیر برائے اقتصادی امور اور وزیر خارجہ رہے تھے۔پھر انھیں نائب وزیراعظم بنا دیا گیا تھا اور وہ 2009ء سے 2015ء تک اس عہدے پر فائز رہے تھے۔

عبداللہ گل 2007ء سے 2014ء تک ملک کے صدر رہے تھے۔اس عرصے کے دوران میں رجب طیب ایردوآن ترکی کے وزیراعظم کے منصب پر فائز تھے اور پھر وہ آئینی اصلاحات کے بعد ترکی کے بااختیار صدر منتخب ہوگئے تھے۔عبداللہ نے صدارت سے سبکدوش ہونے کے بعد فعال عملی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرلی تھی۔

ترکی میں حالیہ اقتصادی بحران ، بے روزگاری اور افراطِ زر کی شرح میں اضافے کی وجہ سے صدر ایردوآن اور ان کی جماعت آق کی عوامی حمایت میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے اور اب اس کے منحرف قائدین ایک نئی سیاسی جماعت تشکیل دے دیتے ہیں تو پھر آیندہ پارلیمانی اور صدارتی انتخابات میں صدر ایردوآن اور ان جماعت کی جیت مشکل ہوجائے گی۔ پارلیمان میں پہلے ہی وہ اپنی اکثریت برقرار رکھنے کے لیے قوم پرست جماعتوں کی حمایت کے محتاج ہیں ۔